عارف بلوچ
اننت ناگ//بٹہ گنڈ ویری ناگ کے دوردرازپہاڑی علاقہ گجر بستی سرکاری سکول سے محروم ہیں جس کے باعث یہاں کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے روزانہ قریبا 5 کلو میٹر دور پڑوسی گاں پیدل پہنچنا پڑتا ہے۔سطح سمندر سے سینکڑوں میل اوپر آباد بستی دور جدید میں بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ انکی بستی اسکول و پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں،انہوں نے کہا کہ گاں کی آبادی قریبا 60 گھروں پر مشتمل ہیں جن کے کئی بچے گائوں میں اسکول کی عدم دستیابی کے باعث پڑوسی گاوں وتناڈ کوکرناگ تعلیم حاصل کرنے کے لیے مجبور ہیں جبکہ کئی بچے روزانہ کی بنیاد پر پڑوسی گاں میں تعلیم کے لیے پیدل سفر نہیں کر سکتے کیونکہ انہیں ناہموار اور پرخطر راستے سے گزرنا پڑتا ہے اور وہاں ہمیشہ جنگلی جانوروں کا خوف رہتا ہے کیونکہ 1 سال قبل یہاں ایک معصوم بچی جنگلی درندے کی شکار بن گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پیشہ سے مزدور ہیں اور ہر دن اپنے بچوں کے ساتھ اسکول نہیں جا سکتے جو یہاں سے قریبا 5 کلومیٹر دور ہے۔واضح رہے رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کی پالیسی کے مطابق حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ 1 کلومیٹر کے دائرے میں بچوں کے لیے پرائمری اسکول قابل رسائی ہو تاہم یہ گاں ایک ایسے وقت میں اپنے پہلے اسکول کا انتظار کر رہا ہے جب سرکاری اسکول قصبوں اور شہروں میں بے ترتیبی سے قائم کیے گئے ہیں،بیشتر اسکولوں میں عملہ کی تعداد طلاب سے کہییںزیادہ ہیں اور حکومتی دعووں جن میں مفت تعلیم،لازمی تعلیم ،خواندگی کی شرح کو بہتر بنانا جیسے بلند بانگ دعووں پر بھی سوالات کھڑا کررہا ہے۔چیف ایجوکیشن آفیسر اننت ناگ علی محمد بٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے حال ہی میں ضلع کا عہدہ سنبھالا ہے،اور وہ معاملہ سے بے خبر ہیں،تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ وہ آج ہی معاملہ کو دیکھے گئے اور جو بھی ضروری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہوگی اسکو اٹھایا جائے گا۔