ویب ڈیسک
امریکی خلائی تحقیقاتی ادارے ناسا کے ایک درجن سے زائد ماہرین کا ایک اہم اجلاس ہوا جس کا مقصد زمین یا اس سیارے سے باہر خلائی مخلوق کی موجودگی کے مضبوط شواہد کو دریافت کرنا تھا۔ خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ناسا کے ماہرین کا اجلاس ہوا جس میں ’یو اے پی‘ unidentified anomalous phenomena گروپ کے خدشات کو دور کرنے کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ناسا کا کہنا ہے کہ انہیں زمین یا اس سیارے سے باہر خلائی مخلوق کی موجودگی کے مضبوط شواہد نہیں ملے۔ ’کسی دوسری مخلوق کی تلاش واقعی ایک اہم موضوع ہے، اس لیے ہم اس کی تلاش جاری رکھیں گے۔گروپ کا پہلا اجلاس واشنگٹن میں ہوا جہاں ماہرین نے خلائی مخلوق کو سمجھنے کے دوران درپیش چیلنجز کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا۔ماہرین کا کہنا تھا کہ خلائی مخلوق کی موجودگی کے حوالے سے مضبوط ڈیٹا کی کمی ہے اس لیے ابھی ہم نہیں کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں خلائی مخلوق کی موجودگی کے شواہد ہیں۔
یہ اجلاس 16 ارکان پر مشتمل تھا جس میں طبیعات اور فلکیات جیسے مختلف شعبوں کے سائنس دان شامل تھے۔ 4 گھنٹے تک جاری اجلاس ناسا کی ویب سائٹ پر براہ راست نشر کیا گیا تھا تاکہ خلائی مخلوق کی موجودگی سے متعلق ابتدائی نتائج پر تبادلہ خیال کیا جاسکے۔ اس اجلاس کا مقصد مختلف واقعات کی نوعیت کا حل پیش کرنے کے بجائے ناسا کو مستقبل کے تجزیے کی رہنمائی کے لیے روڈ میپ فراہم کرنا ہے۔اجلاس کے ارکان کی جانب سے بتایا گیا کہ خلائی مخلوق کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج قابل اعتماد سائنسی طریقہ کار اور شواہد کی کمی ہے۔ وزارت دفاع کے آل فیلڈز انوملی ریزولوشن آفس کے ڈائریکٹر شان کرک پیٹرک نے کہا کہ انہیں اب تک 800 سے زائد یو ایف او رپورٹس موصول ہو چکی ہیں جن میں غیر معمولی تصاویر یا روشنی یا زمین تک پہنچنے والی لہروں کے ایک عجیب و غریب اخراج کو دیکھا گیا۔کرک پیٹرک نے کہا کہ ان تصاویر میں بہت کم ایسی تصاویر تھیں جو غیر معمولی تھیں جن کی شناخت نہیں ہو پائی۔ آفس آف ایئر ٹریفک سرویلنس سروسز کے ٹیکنیکل ایڈوائزر مائیک فری نے کہا کہ ملک بھر میں 8 لاکھ 80 ہزار سے زیادہ رجسٹرڈ ڈرونز ہیں اور روزانہ ہزار ڈرون اڑائے جاتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کئی تصاویر ایسی تھیں جو دراصل ہوائی اڈے پر اترنے والے طیارے تھے۔اجلاس کے دوران سوال کیا گیا کہ کیا انہیں غیر معمولی اشیا کے پیچھے خلائی مخلوق کے شواہد ملے ہیں؟جس پر جارج میسن یونیورسٹی میں کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس کی ایسوسی ایٹ پروفیسر انامریا بیریا نے کہا کہ ہماری ٹیم تجربہ کار سائنسدانوں پر مشتمل ہے جو ڈیٹا پر کام کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ ایک روڈ میپ تیار کر رہے ہیں کہ ان غیر معمولی تصاویر کو مزید جانچ کیسے کرسکتے ہیں، غیر معمولی دعووں کے لیے مضبوط شواہد کی ضرورت ہوتی ہے، آیا کائنات میں صرف ہم ہی انسان ہیں یا ہمارے علاوہ کوئی اور بھی مخلوق ہے، یہ شاید انسانی تاریخ کے بہت بڑے سوالات ہیں۔دریں اثناامریکی خلائی ادارے ناسا کے معروف ’پارکر سولر پروب‘ نے تاریخ رقم کرتے ہوئے کسی بھی دوسرے خلائی جہاز کے مقابلے میں سورج کے زیادہ قریب پرواز کی اور اس کی ہیٹ شیلڈ 1700 ڈگری فارن ہائیٹ (930 ڈگری سینٹی گریڈ) سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اگست 2018 میں لانچ کیا گیا یہ خلائی جہاز، ہمارے ستارے کے بارے میں سائنسی تفہیم کو گہرا کرنے اور زمین پر زندگی کو متاثر کرنے والے خلائی اور موسمی واقعات کی پیش گوئی کرنے میں مدد کرنے کے لیے 7 سالہ مشن پر ہے۔جس روز ہونے والی تاریخی پرواز مقامی وقت کے مطابق صبح 6 بج کر 53 منٹ پر ہونی چاہیے تھی، تاہم مشن کے سائنسدانوں کو تصدیق کے لیے جمعہ تک انتظار کرنا پڑے گا، کیونکہ سورج کے قریب ہونے کی وجہ سے ان کا کئی دنوں تک اس جہاز سے رابطہ منقطع رہا ہے۔
اگر زمین اور سورج کے درمیان فاصلہ کسی امریکی فٹ بال فیلڈ کی لمبائی کے برابر ہے، تو خلائی جہاز کو قریب ترین نقطہ نظر کے وقت اختتامی زون سے تقریباً 4 گز (میٹر) کا فاصلہ ہونا چاہیے تھا، جسے ’پیریہیلین‘ کہا جاتا ہے۔ سائنسدان آرک پوسنر نے کہا تھا کہ یہ ناسا کے جرات مندانہ مشن کی ایک مثال ہے، جس میں کائنات کے بارے میں دیرینہ سوالات کا جواب دینے کیلئے ایسا کچھ کیا گیا ، جو پہلے کسی اور نے نہیں کیاا، ہم خلائی جہاز سے پہلی اسٹیٹس اپ ڈیٹ اور آنے والے ہفتوں میں سائنسی اعداد و شمار حاصل کرنے کا انتظار نہیں کر سکتے۔
ہیٹ شیلڈ اس قدر مؤثر ہے کہ پروب کے اندرونی آلات کمرے کے درجہ حرارت کے قریب رہتے ہیں، تقریباً 85 فارن ہائیٹ (29 سینٹی گریڈ)، کیونکہ یہ سورج کی بیرونی فضا کی کھوج کرتا ہے، جسے ’کورونا‘ کہا جاتا ہے۔پارکر تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ (6 لاکھ 90 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ) کی رفتار سے آگے بڑھے گا، جو امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے ٹوکیو تک ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پرواز کرنے کے برابر رفتار ہے۔میری لینڈ کے شہر لوریل میں واقع جان ہاپکنز اپلائیڈ فزکس لیبارٹری (اے پی ایل) کے مشن آپریشنز منیجر نک پنکین کا کہنا ہے کہ کوئی بھی انسانی ساختہ شے کبھی کسی ستارے کے اتنے قریب سے نہیں گزری، اس لیے پارکر واقعی نامعلوم علاقے سے ڈیٹا بھیج رہا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہم سورج کے گرد گھومنے کے بعد اس خلائی جہاز سے بھیجے جانے والے پیغامات سننے کے لیے پرجوش ہیں، ان انتہائی حالات میں داخل ہو کر پارکر سائنسدانوں کو سورج کے کچھ سب سے بڑے رازوں کو سمجھنے میں مدد دے رہا ہے۔ سائنسدان جان سکیں گے کہ شمسی ہوا کیسے شروع ہوتی ہے؟ ’کورونا‘ نیچے کی سطح سے زیادہ گرم کیوں ہوتا ہے؟ اور خلا میں پھیلنے والے پلازما کے بڑے بادل کیسے بنتے ہیں؟