جموں//کٹھوعہ آبرو ریزی اور قتل معاملہ میں ملوث ’نابالغ ‘ملزم کو بالغ کے طور پر ملزم قرار دینے کے لئے ریاستی پولیس نے ملزم کے والد کی طرف سے 14برس قبل بچوں کے پیدائش سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے دی گئی درخواست کو بھی ہتھیار بنا لیا ہے ۔ کرائم برانچ نے ٹرائل کورٹ کی طرف سے ملزم کو نابالغ قرار دینے کے فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جہاں ملزم کے والد کی طرف سے دی گئی اس درخواست کے علاوہ ماہر ڈاکٹروں کے بورڈ کی طرف سے دی گئی اس رپورٹ کو بھی شامل کیا گیا ہے جس میں ملزم کی عمر 19اور23برس کے بیچ ہونے کی بات کہی گئی ہے ۔ عدالت عالیہ میں معاملہ کی سماعت 6جون کو ہوگی۔ ملزم کے والد کی طرف سے تحصیلدار ہیرا نگر کے دفتر میں 15اپریل 2004کو دی گئی درخواست کو بنیاد بنایا گیا تھا جس میںبچوں کی حقیقی تواریخ پیدائش کے بجائے اندازہ سے کام لیا گیا تھا۔ ملزم کے والد نے اپنے بڑے بیٹے کی تاریخ پیدائش23نومبر1997لکھوائی ہے تو بیٹی کی تاریخ پیدائش 21فروری 1998لکھی ہوئی ہے جب کہ تیسرے بیٹے ، جو کہ کٹھوعہ معاملہ میں ملزم ہے کی تاریخ پیدا ئش 23اکتوبر 2002لکھی گئی ہے ۔ تاہم پہلے دو بچوں کی پیدائش میں کل 2ماہ 28دن کا فرق بنتا ہے جو کہ طبی طور پر ناممکن ہے ۔ اس کے علاوہ پہلے دو بچوں کی جائے پیدائش کے بارے میں کوئی ذکر نہیں ہے تو ملزم کی جائے پیدا ئش ہیرا نگر ہسپتال لکھی گئی ہے ۔ لیکن اس درخواست کی جانچ پڑتال کے دوران ایک خصوصی ٹیم بی ایم او ہیرا نگر کے دفتر میں بھیج کر ملزم کی پیدائش کے بارے میں تحقیقات کی گئی تو بی ایم او متعلقہ نے ریکارڈ کے حوالہ سے رپورٹ دی ہے کہ اس ہسپتال میں 23اکتوبر2002کو ملزم کی والدہ کے نام سے کسی بھی خاتون کی زچگی نہیں ہوئی تھی۔ کرائم برانچ کی طرف سے ہائی کورٹ میں جمع کروائے گئے حلف نامہ کے ساتھ یہ تمام دستاویزات لگائی گئی ہیں۔ حلف نامہ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزم کی عمر کے بارے میں تمام تر اندراجات فرضی ہیں جن کی میونسپل کمیٹی یا ہسپتال کے ریکارڈ سے تصدیق نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس ماہرین کے بورڈ ، جس میں ماہر نفسیات، ڈینٹل سرجن، ریڈیالوجسٹ، فورنیسک ماہر شامل تھے،نے اسے بالغ قرار دیا ہے ۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ میونسپل کمیٹی کی طرف سے دی گئی مشکوک رپورٹ کی بنا پر ملزم کی عمر کا تعین سرسری انداز میں کرنا انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا ہے۔