پٹھان کوٹ// کٹھوعہ میں پیش آئے آٹھ سالہ کمسن بچی کے عصمت دری اور قتل واقعہ کے ملزمان کے وکلاء نے ملزمان کی پٹھان کوٹ منتقلی کے خلاف جمعہ کے روز یہاں ڈسٹرک اینڈ سیشنز جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت میں اپنے اعتراضات جمع کردیئے۔ اس دوران مقدمے کی سماعت جمعہ کو مسلسل دوسرے دن بھی جاری رہی۔ سپیشل پبلک پراسکیوٹر ایڈوکیٹ ایس اے بسرا نے جمعرات کو عدالت میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں انہوں نے ملزمان کو عدالتی تحویل پر پٹھان کوٹ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملزمان کے وکلاء انکور شرما اور اے کے ساونی نے اس پر یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے صرف کیس کو پٹھان کوٹ منتقل کیا ہے، ملزمان کو نہیں۔ تاہم جج موصوف نے انہیں (ملزمان کے وکلاء کو) اپنے اعتراضات تحریری طور پر جمع کرنے کے لئے کہا تھا۔ ایڈوکیٹ اے کے ساونی نے کہا کہ ہم نے آج اپنے اعتراضات جمع کئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’کل ایک عرضی دی گئی تھی کہ ملزموں کو پٹھان کوٹ منتقل کیا جائے۔ اس پر آج ہم نے اپنے اعتراضات جمع کئے۔ ایڈوکیٹ ساونی نے کہا کہ ڈسٹرک اٹارنی پٹھان کوٹ بغیر کسی سرکاری نوٹیفکیشن کیس میں بحیثیت پبلک پراسکیوٹر حاضر ہوئے جس پر ہم نے اعتراض جتایا۔ انہوں نے کہا ’آج ہم نے اس پر اعتراض کیا کہ ڈسٹرک اٹارنی پٹھان کوٹ کیس میں پبلک پراسکیوٹر نہیں ہوسکتا ہے۔ ہم نے کہا کہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے وکلاء اس کیس میں حاضر نہیں ہوسکتے۔ اس پر پیر کو تفصیلی بحث ہوگی۔ انہوں نے کہا ’حکومت کی طرف سے گرداس پورہ کے ایک سینئر افسر کو سپیشل پبلک پراسکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ دو دیگر پبلک پراسکیوٹرس ان کی مدد کررہے ہیں۔ وہ کیس میں تسلیم شدہ پبلک پراسکیوٹرس ہیں‘۔ سرکار کی طرف سے کیس میں ایڈوکیٹ ایس اے بسرا کو سپیشل پبلک پراسکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں جموں سے تعلق رکھنے والے مزید دو پبلک پراسیکیوٹرسبوپندر سنگھ اور ہرمندر سنگھ کی معاونت حاصل ہے۔ ان تینوں کو ریاستی حکومت کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے۔ اے کے ساونی نے کہا کہ جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے مقدمہ کی سماعت ہفتہ کی دوپہر ڈیڑھ بجے تک ملتوی کردی ہے۔ انہوں نے کہا ’کل سے کیس کی سماعت دوپہر ڈیڑھ بجے سے شروع ہوگی۔