جموں//کٹھوعہ معاملہ کی سماعت پٹھانکوٹ منتقل کئے جانے کے بعد پہلی بارسوموارکو 17میں سے 4گواہ عدالت میں پیش کئے گئے ۔ اگر چہ 17گواہوں کے نام سمن جاری ہوئے ہیں تاہم پیر کے روز چار گواہ کرائم برانچ نے پیش کئے اور ان میں سے ایک کی جرح ہوئی جومنگل کے روز بھی جاری رہے گی۔ پیر کے روز سماعت قریب 5گھنٹے تک جاری رہی جس دوران وکلاء صفائی نے گواہ پر جرح کی لیکن عدالت کے برخواست ہونے تک جرح مکمل نہ ہو سکی۔وکلاء صفائی یکے بعد دیگرے گواہوں سے جرح کر رہے ہیں جس سے عدالتی کارروائی کا سلسلہ کافی طویل ہو گیا ۔ اس سے قبل عدالتی حکم کے مطابق ایس ایس پی کرائم برانچ رمیش جالا عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو یقین دلایا کہ آئندہ ہر تاریخ پر گواہان کو پیش کیاجائے گا، عدالت کے ہر حکم کی تعمیل ہوگی۔ ایس ایس پی کا بیان قلمبند کیاگیاجس کے بعد انہیں وہاں سے جانے کی اجازت دی گئی۔ ملزمین کے وکیل انکور شرما نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہمیں 17گواہان کی فہرست دی گئی تھی جس میں سے آج چار گواہان کو لایاگیاتھا، اس میں سے ایک کے ساتھ کورٹ میں جرح کا عمل شروع ہوا اور کل یعنی منگل کے روز بھی چند گھنٹے اسی گواہ کی جرح کرنے میں گذریں گے‘‘۔دریں اثناء پرویش کمار عرف منو کونابالغ قرار دینے کے لئے پٹھانکوٹ سیشن کورٹ میں وکلاء صفائی نے جوعرضی دائر کی تھی اس کے جواب میں کرائم برانچ نے اعتراضات فائل کئے ۔ ذرائع کے مطابق کرائم برانچ نے یہ بھی درخواست دائر کی ہے کہ ملزم پرویش کمار عرف منو کا میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لیاجائے۔یاد رہے کہ عدالت نے اس معاملہ کے 261میں سے 17گواہوں کے نام سمن جاری کیا تھا لیکن وہ جمعہ کے روز پیش نہ ہو سکے تھے جس پر فاضل جج نے ایس ایس پی کرائم کو اصالتاً عدالت میں حاضر ہونے کے لئے کہا۔بیشتر گواہوں کا تعلق خانہ بدوش طبقہ سے ہے جو موسمی نقل مکانی کے معمول کے مطابق پہاڑی علاقوں کی طرف کوچ کر گئے ہیںاس لئے عدالتی سمن کی تعمیل کروانے میں تاخیر ہو گئی ہے۔ عدالت نے جمعرات کو آٹھ میں سے 7ملزمان کے خلاف الزامات طے کئے تھے جن میں سانجھی رام اس کا بیٹا وشال، ایس پی او دیپک کھجوریہ، سریندر ورما، پرویش کمار، کانسٹبل تلک راج اور سب انسپکٹر اروند دتہ شامل ہیں۔ آٹھویں ملزم کو فی الحال نابالغ قرار دیا گیا ہے جب کہ کرائم برانچ کا دعویٰ ہے کہ وہ بالغ ہے اور اس کی عمر کے تعین کے لئے جموں ہائی کورٹ میں معاملہ درج کیا ہوا ہے۔