پٹھان کوٹ// کٹھوعہ کے رسانہ نامی گاؤں میں جنوری کے اوائل میں پیش آئے دل دہلانے والے آٹھ سالہ کمسن بچی کے عصمت دری اور قتل واقعہ کے ملزمان کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت جمعرات کو یہاں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ کی عدالت میں شروع ہوگئی۔ ملزمان کے وکلاء انکور شرما اور اے کے ساونی نے عدالتی کمپلیکس کے باہر نامہ نگاروں کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر مقدمے کی ’اِن کیمرہ‘ اور روزانہ کی بنیاد پر سماعت شروع ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے مقدمہ کی سماعت جمعہ کی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کردی ہے۔ متاثرہ خاندان کی نمائندگی استغاثہ کی طرف سے مقرر کئے گئے سپیشل پبلک پراسیکیوٹر ایڈوکٹ ایس اے بسرا کررہے ہیں۔ 70 سالہ ایڈوکیٹ بسرا کو جموں سے تعلق رکھنے والے مزید دو پبلک پراسیکیوٹرسبوپندر سنگھ اور ہرمندر سنگھ کی معاونت حاصل ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے عدالتی کمپلیکس پٹھان کوٹ کے باہر سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ ملزمان کو میڈیا اور دوسرے لوگوں سے بات کرنے سے روکنے کے لئے عدالتی کمپلیکس میں رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور بلٹ پروف جیکٹس، ہیلمنٹ ، ہتھیاروں و لاٹھیوں سے لیس سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ ملزمان کے وکلاء انکور شرما اور اے کے ساونی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جج ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے جمعرات کو کچھ ہدایات جاری کیں جن میں پیر کے روز تک ملزمان کے وکلاء کو چالان کی ترجمہ شدہ کاپیاں فراہم کرنا اور ملزمان کو سماعت کے دوران کھانا فراہم کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیشل پبلک پراسیکیوٹر کی طرف سے عدالت میں عرضی دائر کی گئی ہے جس میں ملزمان کو عدالتی تحویل پر پٹھان کوٹ میں بند رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ملزمان کے وکلاء نے کہا کہ ہم نے اس پر یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا کہ سپریم کورٹ نے صرف کیس کو پٹھان کوٹ منتقل کیا ہے، ملزمان کو نہیں۔ انہوں نے کہا ’جج صاحب نے ہمیں اعتراضات جمع کرنے کے لئے کہا ہے، اور ہم اگلے ایک دو روز میں اپنے اعتراضات جمع کریں گے‘۔ انکور شرما اور اے کے ساونی نے کہا کہ چونکہ مقدمہ کی سماعت ’اِن کیمرہ‘ ہورہی ہے، اس لئے وہ تمام تفصیلات میڈیا کو نہیں دے سکتے ہیں۔ نابالغ ملزم کو چھوڑ کر سبھی 7 ملزمان کو جمعرات کے روز پٹھان کوٹ عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کٹھوعہ جیل سے انتہائی سیکورٹی حصار میں پٹھان کوٹ پہنچائے گئے۔ انہیں کسی سے بھی بات کرنے نہیں دیا گیا۔ نابالغ ملزم کے خلاف مقدمے کی سماعت الگ سے جیونائل جسٹس ایکٹ کے تحت ہوگی۔ مقدمے کے ملزمان میں واقعہ کے سرغنہ اور مندر کے نگران سانجی رام، اس کا بیٹا وشال، ایس پی او دیپک کھجوریہ، ایس پی او سریندر ورما، سانجی رام کا بھتیجا وشال، وشال کا دوست پرویش کمار منو، تحقیقاتی افسران تلک راج اور آنند دتا ہیں۔ ملزمان کو عدالتی کمپلیکس کے اندر کھانا فراہم کیا گیا اور جج نے حکم جاری کیا کہ کل سے ملزمان کو اپنے وقت پر کھانا دیا جائے‘۔