پٹھان کوٹ// ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج پٹھان کوٹ ڈاکٹر تجویندر سنگھ نے پیر کے روز کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس کے ملزمان کی کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ جیل منتقلی کے خلاف دفاعی وکلاء کی طرف سے دائر کئے گئے اعتراضات کو جائز قرار دیا جس کے بعد استغاثہ نے ملزمان کی منتقلی سے متعلق اپنی عرضی واپس لے لی۔ یہ اطلاع ملزمان کے وکلاء نے عدالتی کمپلیکس کے باہر نامہ نگاروں کو دی۔ انہوں نے کہا کہ کرائم برانچ کی طرف سے ملزمان کو وعدے کے مطابق چالان کی ترجمہ شدہ کاپیاں فراہم کی گئی ہیں۔ وکلاء نے کہا کہ جج نے متاثرہ بچی کے والد محمد یوسف کو اپنا وکیل کرنے کی اجازت دی ہے اور وہ استغاثہ کے وکلاء کو کیس میں معاونت فراہم کرے گا۔ انہوں نے کیس میں جموں وکشمیر حکومت کی نوٹیفکیشن کے بغیر حاضر ہونے والے پنجاب ڈسٹرکٹ اتھارنی جے کے چوپڑا پر کہا ہے کہ انہیں جج موصوف نے دو دن کا وقت دیا ہے۔ اگر وہ جموں وکشمیر حکومت کی نوٹیفکیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تو وہ کیس میں حاضر ہونے کا جواز رکھتے ہیں۔ اس دوران مقدمے کی سماعت پیر کو مسلسل چوتھے دن بھی جاری رہی۔ ریاستی حکومت کے نامزد کردہ سپیشل پبلک پراسکیوٹر ایڈوکیٹ ایس اے بسرا نے 31 مئی کو عدالت میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں انہوں نے ملزمان کو عدالتی تحویل پر پٹھان کوٹ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ملزمان کے وکلاء نے اس پر یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا تھا کہ سپریم کورٹ نے صرف کیس کو پٹھان کوٹ منتقل کیا ہے، ملزمان کو نہیں۔ سپریم کورٹ نے 7 مئی کو کٹھوعہ کیس کی جانچ سی بی آئی سے کرانے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سماعت کٹھوعہ سے پٹھان کوٹ کی عدالت میں منتقل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ جموں وکشمیر حکومت کی طرف سے گرداس پور سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر وکیل ایس اے بسرا کو سپیشل پبلک پراسکیوٹر مقرر کیا گیا ہے۔ انہیں جموں سے تعلق رکھنے والے مزید دو پبلک پراسیکیوٹرسبوپندر سنگھ اور ہرمندر سنگھ کی معاونت حاصل ہے۔ ملزمان کے وکلاء نے عدالتی کمپلیکس کے باہر میڈیا کو عدالتی کاروائی کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ’عدالتی کمرے کیا ہوا، وہ ہم آپ کے ساتھ شیئر نہیں کرسکتے۔ لیکن عدالت نے آج کچھ فیصلے صادر کئے۔ ملزمان کو کٹھوعہ جیل سے پٹھان کوٹ جیل منتقل کرنے کی عرضی دائر کی گئی تھی۔ اس کو آج عدالت نے مسترد کردیا جس کے بعد استغاثہ نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ ہم نے منتقلی کو لیکر اپنے تفصیلی اعتراضات جمع کئے تھے‘۔