بحالی کا کام جاری، متبادل راستے ہی واحد سہارا ، یاترا بھی مسلسل معطل
سمت بھارگو
ریاسی //کٹرہ جو ماتا ویشنو دیوی کی مقدس یاترا کا بیس کیمپ مانا جاتا ہے، ان دنوں شدید مشکلات سے دوچار ہے کیونکہ قصبہ کو جوڑنے والی دو اہم سڑکیں گزشتہ پانچ دنوں سے مکمل طور پر بند پڑی ہیں۔ ایک جانب کٹرہ سب ڈویژن ہیڈکوارٹر کو ضلع ریاسی ہیڈکوارٹر سے جوڑنے والی سڑک بند ہے تو دوسری طرف کٹرا اور جموں ہائی وے کے درمیان براہِ راست رابطہ بھی منقطع ہے۔محکمہ جاتی ذرائع کے مطابق کٹرہ اور جموں ہائی وے کو جوڑنے والی مرکزی سڑک ڈومیل کے قریب کڈمل میں لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند ہے۔ یہ مقام کٹرہ سے صرف تین کلو میٹر کی دوری پر ہے جہاں حالیہ بارشوں کے دوران ایک بڑا شگاف اور مٹی کا تودہ گرنے سے سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی۔ یہی وہ سڑک تھی جسے عوام زیادہ تر کٹرہ اور جموں کے درمیان آمدورفت کیلئے استعمال کرتے تھے۔اس کے بعد مقامی لوگ اور یاتری مجبوراً متبادل راستہ استعمال کر رہے ہیں جو ککریال یونیورسٹی اور ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کے قریب سے گزرتا ہے۔ اگرچہ یہ سڑک آمدورفت کے قابل ہے لیکن اس پر اضافی وقت اور اخراجات لگ رہے ہیں جس سے مسافروں کو خاصی دقت پیش آرہی ہے۔دوسری جانب کٹرہ سب ڈویژن ہیڈکوارٹر کو ضلع ریاسی ہیڈکوارٹر سے جوڑنے والی سڑک بھی بلبنی علاقے میں بند پڑی ہے۔ اس روٹ پر ٹریفک کو عارضی طور پر بان گنگا کے قریب سے گزرنے والی ایک لنک روڈ پر منتقل کر دیا گیا ہے، مگر یہ راستہ نہ صرف تنگ ہے بلکہ بڑھتے ٹریفک دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ نتیجتاً لوگوں کو گھنٹوں لمبے جام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف یاترا پٹری پر حالیہ لینڈ سلائیڈنگ میں چونتیس قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور اس کے بعد پچھلے پانچ دنوں سے یاترا بھی مکمل طور پر معطل ہے، تو دوسری طرف کٹرہ قصبہ کے اندرونی اور بیرونی رابطے بھی منقطع ہو جانے سے عوام کی مشکلات کئی گنا بڑھ گئی ہیں۔مکینوںنے کہا کہ کٹرہ جیسی مقدس بستی جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں یاتری آتے ہیں، وہاں بنیادی رابطہ سڑکوں کا بند ہونا نہ صرف عوامی زندگی کو متاثر کرتا ہے بلکہ ریاست کی معیشت اور یاترا سے جڑے کاروبار پر بھی براہِ راست ضرب لگاتا ہے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دونوں مقامات پر بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر جاری ہے اور ملبہ ہٹانے کے لئے مشینری مسلسل کام کر رہی ہے تاہم زمین کی مسلسل حرکت اور بارشوں کے باعث بحالی میں تاخیر ہو رہی ہے۔عوامی حلقوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اور ضلع حکام سے اپیل کی ہے کہ سڑکوں کو جلد از جلد بحال کیا جائے تاکہ یاترا اور روزمرہ زندگی کی معمولات بحال ہو سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے تو کٹرا کا انفراسٹرکچر اور یاترا سے جڑی ساکھ دونوں بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔