پرویز احمد
سرینگر //موسم بہار آتے ہی وادی میں فلو کے مریضوں میں اضافہ کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔ وادی میں امراض چھاتی کے خصوصی اسپتال سی ڈی ڈلگیٹ میں پچھلے ایک ماہ کے دوران 47افراد میں انفلنزا یعنی H3N2کی تصدیق ہوئی ہے۔ سی ڈی اسپتال میں چھاتی کے امراض کی تشخیص کیلئے قائم کی گئی لیبارٹری میں پچھلے ایک ماہ کے دوران متواتر طور پر 2سے 3ہفتوں تک کھانسی کی شکایت کرنے والے 103افراد کے نمونوں کی تشخیص کی گئی جن میں 43مریض متاثر پائے گئے۔47یعنی میں انفلنزا A، 5میں انفلنزا B اور 19افراد میں چھاتی میں الرجی پیدا کرنے والا وائرس پایا گیا جبکہ صرف 3افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔ شعبہ امراض چھاتی سربراہ ڈاکٹر نوید نذیر نے بتایا ’’ یہ ہر سال کی طرح ہونے والا فلو ہے اور معمول کے مطابق ہی نمونیا اور الرجی کے شکار مریض موسم بہار میں متاثر ہوتے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی موجودگی میں لوگوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام فلو کی علامتیں بخار، کھانسی، بے قراری، قے، گلے میں خراش، پورے جسم میں درد اوردست، وقت گزرنے کے ساتھ خود بہ خود ٹھیک ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے فلو ویکسین لیا ہے تو اس کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی وقت گزرنے کے ساتھ ہی موسمی فلو ختم ہوجائے گا۔ ڈاکٹر نوید کا کہنا تھا کہ مختلف بیماریوں کے شکار مریضوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے مریضوں کو بھی دیکھتے ہیں جو 2سے 3ہفتوں تک کھانسی سے متاثر رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہH3N2انفلنزا کے کیسوں میں اضافہ کوئی پریشانی کی بات نہیں تاہم سکول جانے والے بچوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور فلو سے متاثر افراد کو دیگر لوگوں سے الگ رہنا چاہیے۔میڈیکل سپر انٹنڈنٹ سی ڈی اسپتال ڈاکٹر محمد سلیم ٹاک نے بتایا کہ پچھلے 2ماہ سے انفلنزا کے کیسوں میں کورونا کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر ٹاک نے بتایا کہ کورونا وائرس لگ بھگ ختم ہوگیا ہے لیکن پچھلے ڈیڑھ ماہ میں 50سے زائد انفلنزا کے کیس آئے ہیں لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے ، یہ اس موسم میں معمول کا اضافہ ہے۔