پرویزاحمد
سرینگر //آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر (ASD)ایک اعصابی حالت ہے، جو مواصلات، سماجی تعامل اور رویے کو متاثر کرتی ہے۔پوری دنیا کی آبادی میں سے 1فیصد لوگ خود پسندی کے شکار ہوتے ہیں۔ بھارت میں خود پسندی سے متاثر ہ بچوں کی شرح بھی 1فیصد تک ہی محدود ہے اور اس طرح مجموعی طور پر 1.8ملین بچے خودپسندی کے شکار ہیں۔ کشمیر صوبے میں خودپسندی کے شکار بچوں کی شرح ملکی شرح سے دو گنی ہے۔ 2سے 4سال کے بچوں میں سے2.34فیصد بچے خودپسندی کے شکار ہوتے ہیں۔ خود پسندی دماغی نشوونما کی ایک دائمی بیماری ہوتی ہے جو سماجی میل جول اور رویے کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی علامتیں عام طور پر بچپن کے ابتدائی تین سال میں ظاہر ہوتی ہیں لیکن ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ جدید دور میں زیادہ سکرین ٹائم اور دیگر وجوہات متاثرین کی تعداد میں اضافہ کا سبب بن رہی ہیں۔
پوری دنیا کے ساتھ ساتھ 2اپریل 2026کو خود پسندی(AUTISM)نامی بیماری سے متعلق لوگوں کو جانکاری دینے کیلئے خود پسندی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر صوبے میںخود پسندی سے متاثرہ بچوں کی شرح ملکی شرح سے دوگنی ہے ۔ جہاں ملکی سطح پر اس کی شرح 1فیصد ہے وہیں کشمیر صوبے میں اس کی شرح 2.34فیصد ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2019سے 2021تک مجموعی طور پر 189معاملات، سال 2022میں 75معاملات اورسال 2023میں 78معاملات کا اندراج ہوا ہے۔ ماہر نفسیات اعجاز بشیر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ یہ بیماری کافی کم لوگوں میں پائی جاتی ہے، ملکی سطح پر100مریضوں میں ایک اس سے متاثر ہے لیکن کشمیر میں اس کی شرح زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیرمیں اس کی شرح 2فیصد تھی لیکن پچھلے چند سال کے دوران سکرین ٹائم بڑھنے کی وجہ سے اس میں اضافہ ہوا ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ والدین بچوں کوچھوٹی عمر میں ہی فون تھما دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم عمر کے بچوں کو فون دینا ، ٹیلی ویژن، ویڈیو گیم اور دیگر چیزوں کی وجہ سے وہ خود پسندی سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خودپسندی کے متاثرہ بچوں میں لڑکیوں کی شرح زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ شروعات میں علاج کی سہولیات دستیاب نہ ہونے،سماجی سطح پر کھیل کود میں کمی اور والدین کا بچوں کو کم وقت دینا اس کی بڑی وجوہات میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جینیات، پیدائشی پیچیدگیوں اور بیماریوں کی وجہ سے بھی بچے خودپسندی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بچوں میں پائی جانے والی خودپسندی کی ابتدائی علامتوں میں بات کرتے وقت آنکھیں نہ ملانا، تنہا کھیلنا اورکم ہسنا اور والدین سے زیادہ بات نہ کرنا جیسی ملامتیں شامل ہیں۔ اس بیماری کا علاج ماہر نفسیات کے ذریعے متواتر طور پر تھرپی دینا ہوتا ہے جس سے بچہ سماجی رابطوں، والدین سے بات چیت اور کھیل کود میں دلچپسی لینے لگتا ہے۔