واشنگٹن //پوری دنیا کی طرح، ترکی میں بھی کرونا وائرس حملہ آور ہے۔ تاہم، ترکوں نے اس سے مقابلے کیلئے اپنے روایتی رسم و رواج کا سہارا لیتے ہوئے، کولون یعنی خوشبو کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ترکی میں عام خیال یہ ہے کہ چونکہ کولون میں الکحل زیادہ مقدار میں ہوتا ہے اس لئے ہاتھوں پر موجود کرونا وائرس کو مارنے کیلئے عطر بہت سازگار ہے۔ آجکل بڑے بڑے خوشبویات بنانے والوں سے لیکر مقامی عطاروں اور کیمیا دانوں تک، سب عطر کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔استنبول کے سب سے بزرگ عطار، ضیا میلی شجر، اس وقت تقریباً نوے برس کے ہیں۔