سلفی مشتاق
کسی بھی صحت مند معاشرے کی بنیاد تعلیم و تربیت اور علم و ادب پر قائم ہوتی ہے۔ تعلیم وہ واحد پیمانہ ہے جس سے کسی معاشرے کی صحت، وقار اور ترقی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ دنیا کی وہ تمام قومیں جنہوں نے ترقی کے ایوانوں میں اپنا نام منوایا ہے، وہ نہ توہم پرستی کے سہارے آگے بڑھیں اور نہ ہی کسی غیبی طاقت یا طاقتور ہتھیار کی بدولت کامیاب ہوئیں، ان کی طاقت صرف تعلیم تھی۔
یورپ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک زمانے میں یہ قوم جہالت و پستی میں اس قدر ڈوبی ہوئی تھی کہ دنیا اسے بدترین حالت میں شمار کرتی تھی۔ لیکن آج وہ دنیا کی قیادت کرتی نظر آتی ہے اور اس انقلاب کے پیچھے کوئی تلوار نہیں بلکہ صرف تعلیم و تحقیق کی طاقت ہے۔اسی طرح مسلم قوم کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے۔ بعثتِ نبویؐ سے قبل پوری عرب قوم جہالت، انا پرستی اور گمراہی میں مبتلا تھی۔ یہاں تک کہ غیرت کے نام پر بیٹیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا۔ لیکن جب علم و عرفان کی بارش ہوئی تو نہ صرف ان کی اخلاقی و سماجی حالت بدلی بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پوری دنیا میں ممتاز مقام تک جا پہنچے۔ یہ سب صرف اور صرف علم کی بدولت ممکن ہوا۔جاپان کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب امریکہ نے اس پر ایٹم بم برسائے تو وہ لمحوں میں تباہی کا شکار ہوگیا۔ لیکن انہوں نے بدلہ لینے کے بجائے تعلیم، نظم و ضبط اور تحقیق کو اپنا محور بنایا اور چند دہائیوں میں دنیا کی طاقتور ترین معیشتوں میں شامل ہوگئے۔
جموں و کشمیر کا بدقسمت تعلیمی نظام :
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں سب سے کم جس شعبے پر توجہ دی جاتی ہے، وہ ہے تعلیم۔ یہاں عمومی طور پر تین نظام رائج ہیں۔سرکاری اسکول، نجی اسکول اور مدارس۔ سرکاری و نجی اسکولوں میں نظام تقریباً یکساں ہے جبکہ مدارس کا نظام مختلف ہے۔اس بحث سے ہٹ کر اصل موضوع یہ ہے کہ سرکار اب چیف ایجوکیشن آفیسرز (CEO) اور زونل ایجوکیشن آفیسرز (ZEO) کی کرسیوں پر بیوروکریٹس کو تعینات کرنا چاہتی ہے۔ سرکار کا مؤقف ہے کہ اساتذہ چونکہ زندگی بھر تدریس سے وابستہ رہتے ہیں، اس لئے وہ انتظامی معاملات میں کمزور ہوتے ہیں۔یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ تدریسی عمل سے وابستہ افراد کا انتظامی تجربہ کم ہوتا ہے، مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ انتظامی امور سنبھال نہیں سکتے اور پھر تعلیم کے شعبے میں آپ کو کوٹھیاں، دفاتر یا سیکرٹریٹ نہیں چلانے ہوتے بلکہ انسانی ذہنوں کو تراشنا ہوتا ہے،جو ایک استاد زیادہ بہتر انداز میں سمجھتا ہے، نہ کہ کوئی سخت گیر بیوروکریٹ۔
اگر انتظامی مہارت ہی معیار ہے تو پھر ملک کی یونیورسٹیاں بیوروکریٹس کے ہاتھ میں ہونی چاہئیں تھیں، مگر سچ یہ ہے کہ ہندوستان کی ہر بڑی یونیورسٹی کی سربراہی اساتذہ ہی کرتے ہیں۔ اساتذہ ہی ریکروٹمنٹ سے لے کر وائس چانسلر شپ تک تمام بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم کا نظام صرف فائلیں چلانے سے نہیں چلتا بلکہ معاشرہ تعمیر کرنے کی سوچ درکار ہوتی ہے۔
حل ۔ بیوروکریسی نہیں، ڈپارٹمنٹل امتحان:
ہاں یہ درست ہے کہ محکمۂ تعلیم میں پروموشن سسٹم میں خامیاں ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات ناتجربہ کار لوگ بھی اہم عہدوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن اس کا حل یہ نہیں کہ پورا محکمہ بیوروکریسی کے حوالے کر دیا جائے۔اس کے دو بہترین حل ہیں:
(۱) ہر پروموشن سے پہلے ڈپارٹمنٹل امتحان لازمی قرار دیا جائے۔اس سے اہل اور لائق لوگ ہی آگے آئیں گے، اور محکمۂ تعلیم کی بہتری یقینی ہوگی۔
(۲) پروموشن کے بعد ہر افسر کو باقاعدہ انتظامی و تربیتی کورس سے گزارا جائے،جیسے دیگر محکموں میں ہوتا ہے۔مسائل بیوروکریسی کی وجہ سے رُکتے ہیں، اساتذہ کی وجہ سے نہیں۔یہ حقیقت ہے کہ محکمۂ تعلیم کی اکثر فائلیں CEO لیول پر نہیں رُکتیں بلکہ اوپر کی بیوروکریسی میں پھنس جاتی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسائل تجربے کی کمی سے نہیں بلکہ غیرسنجیدگی اور بیوروکریٹک سست روی سے پیدا ہوتے ہیں۔لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کو بیوروکریسی کے حوالے کرنے کے بجائے اسے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی طرز پر ٹیکنکل لوگوں کے ذریعے چلایا جائے،جہاں ڈاکٹر ہی نظام چلاتے ہیں نہ کہ عام انتظامی افسر۔
اہم تجویز : جو آفیسر محکمۂ تعلیم میں تعینات کیے جائیں، انہیںایک ماہ پرائمری اسکول ،ایک ماہ مڈل اسکول اورایک ماہ ہائی اسکول میں پروبیشن پر بھیجا جائے تاکہ انہیں زمینی حقائق کا عملی ادراک ہو سکے ۔
(کالم نگار، گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کپواڑہ موٹیویشنل اسپیکر اور ایک ٹریڈ یونین لیڈر ہیں)