حکومت کا دعویٰ ہے کہ کبوتر خانہ،لولی محلہ،خانہ محلہ اورکانڈہ محلہ کے پاس ڈل کے ایک حصے دولہ ڈیمب سے تجاوزات اور گھاس پھوس باہر نکال کر تقریباً ایک ہزار کنال اراضی کو صاف کرکے اسکو آبی ذخائر میں منتقل کردیا گیا۔ حکومت کے مطابق ڈل جھیل ،نگین،آنچار اور خوشحال سرکے بارے میںریکارڈ کو درست رکھنے کے لئے ان آبی ذخائرکی تازہ پیمائش کی گئی ہے جس کے مطابق ڈل اور نگین کا رقبہ .18 50432 کنال اراضی ہے جس میں 39226آبی ذخائر اور 10206کنال اراضی خشکی ہے جبکہ تازہ ترین پیمائش کے مطابق خوشحال سر کارقبہ 1791کنال اراضی ہے جس میں 1701آبی ذخائراور 90کنال خشکی ہے ۔جہاں تک آنچار جھیل کا تعلق ہے تواس کا رقبہ 40728کنال اراضی ظاہر کیا گیا جس میں 15748کنال اراضی آبی ذخائر اور28980کنال خشکی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ یہ پیمائش جدید آلات اور ریموٹ سنسنگ اسٹلائٹ کے ذریعے کرائی گئی ہے۔ حکومت کا مزید کہنا ہے کہ 220میٹر کے دائر ے میں کوئی تعمیر نہیں کی جاسکے گی جبکہ ڈل کے سارے مکینوں کومکمل طور رکھ آرتھ منتقل کر نے کے بعد ان کی املاک کو مہند م کرکے اسکو بھی آبی ذخائر میں منتقل کیا جائے گا۔ اگر واقعی زمینی سطح پر ڈل جھیل کی بحالی کیلئے اتنا کام ہوا تو یہ حوصلہ افزا ہے اور اس سے امید پیدا ہوگئی ہے کہ ڈل کی شان رفتہ بحال ہوسکے گی لیکن تاحال اگر غیر جانبدارانہ طور ڈل کا مشاہدہ اور معائنہ کیا جائے تو شاید مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں لگے۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ ڈل کا رقبہ26مربع کلومیٹر سے سکڑ کر16مربع کلومیٹر رہ گیا ہے ۔اتنا ہی نہیں اس آبگاہ کا قدرتی ماحول بھی بگڑ چکا ہے ۔محلول آکسیجن کی مقدار متواتر تبدیل ہوتی رہتی ہے۔نائٹروجن ،فاسفورس اور دیگر معدنیات کی مقدار بھی اتار چڑھائو کا شکار ہے۔ڈل کا پانی اس قدر گاڑھا ہوچکا ہے کہ اب اس کی شفافیت بھی متاثر ہوچکی ہے۔1965سے برابر ڈل کے پانی کا معیار گھٹتا جارہا ہے کیونکہ پانی میں شہر کے نکاسی نظام کا گندہ پانی مل جاتا ہے جو زہر آلودہ معدنیا ت اور گیسوں سے بھرا ہوا ہے۔ایک سال میں پندرہ ڈرینوں اور دیگر کئی چھوٹی چھوٹی گندی نالیوں سے 156.62ٹن فاسفورس،241.18 ٹن نائٹروجن ڈل میں جاتا ہے جبکہ کئی اور ذرائع سے بھی سالانہ 4.5 ٹن فوسفیٹس اور18.14 نائٹروجن ڈل میں چلے جاتے ہیں،اتنا ہی نہیں مسلسل گاڑھا اور کیچڑ ڈل میںچلے جانے اور وہاں ناجائز تجاوزات کھڑی کرنے کی وجہ سے بھی ڈل کا رقبہ سکڑتا جارہا ہے۔اس صورتحال میں ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ ڈل کی حالت بدستور غیر بنی ہوئی ہے اور یہ آبگاہ ارباب حل و عقد کیلئے صرف پیسہ بنانے والی مشین ثابت ہوچکی ہے کیونکہ سالانہ ڈل کی بحالی کے نام پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ چند برس قبل بتایا گیا تھاکہ نہرو پارک علاقہ سے150ے قریب ہائوس بوٹوںکو منتقل کیا جارہا ہے تاکہ ڈل کو مزید جازب نظر بنایا جاسکے لیکن شاید ہائوس بوٹوں کی منتقلی اس درد کا مداوا نہیں ہے۔فی الواقع جھیل ڈل کی رونق ہائوس بوٹوں سے ہے۔ لہٰذا یہاں ہائوس بوٹوں، ڈونگوں اورشکاروں کی ضرورت اور گنجائش ہے مگر اس میں ایک بھی مکان ،ایک بھی ہوٹل اور دکان کی نہ گنجائش ہے اور نہ ضرورت، جھیل ڈل میں مکانات اور ہوٹل جہاں اس ڈل کے لئے بد نما داغ ہیں وہاں یہ اس کی ہیئت بگاڑنے کے ذمہ دار بھی ہیں۔جھیل ڈل کے سکڑنے ،اس کا رقبہ محدود اور مسدود کرنے میں ملیاروں کا رول نہایت ہی افسوسناک اور پریشان کن ہے۔ اگر ہم انہیں جھیل ڈل کے قاتل کہیں تو ہرگز غلط نہیں ہوگا۔جب تک جھیل ڈل سے بستیاں منتقل نہیں ہونگی، سبزی کاشت کرنے والوں کو دوسری جگہ سبزیوں کے لئے اراضی نہیں دی جاتی ، تب تک ڈل جھیل کی ہیئت واپس بحال ہونے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اس سے جھیل کے مزید سکڑنے کااحتمال رہے گا۔ کیونکہ ہم آئے روز دیکھ رہے ہیںکہ بھرائی کا کام جاری ہے، مکانوں کے صحن بڑھ رہے ہیں۔ ملیاری زمین شیطان کے آنت کی طرف لمبی ہو رہی ہے۔ ڈل جھیل کو بچانے کے لئے اب تک جتنی دولت ضائع کی گئی اگر اس رقم کی آدھی پلاننگ کے مطابق خرچ کی گئی ہوتی تو جھیل موت کے دلدل سے نکل آیا ہوتا۔ناقص پلانگ کی وجہ سے ڈل جھیل رشوت کا ایک بدنام زماں ذریعہ بن گیا ہے۔ جب تک یہاں مکانات کھڑے ہیں اورجب تک سبزیوں کی کاشت یہاں جاری ہے، جھیل ڈل کی صفائی اور ہیئت بحال ہونا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔ ڈل کے باسی جھیل کو قبرستان جیسا بنانے کے در پے ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ سب حکام کی ناک کے نیچے ہورہا ہے اور وہ کوئی کارروائی کرنے سے قاصر ہیں۔سرکار نے ڈل جھیل کی بستی کو یہاں سے منتقل کر نے کے لئے رکھ آرتھ میں زمینیں دی ہیں لیکن وہ کالونی برسہا برس سے مکمل نہیںہوپارہی ہے اور اب تو ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ کئی لوگ وہاں اپنے پلاٹ بیچ کر واپس ڈل میںبسنے جارہے ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ کالونی فوری طور مکمل کرکے ڈل باسیوں کو فوری طور وہاں منتقل کیا جائے تاکہ ڈل میں انسانی عمل دخل ختم ہوسکے ۔