اشتیاق ملک
ڈوڈہ//مرکزی حکومت کی جانب سے مزدوروں کی حاضری کے لیے شروع کیے گئے نئے ‘فیس آتھنٹیکیشن سسٹم (چہرہ شناختی نظام) نے پہلے ہی روز غریب جاب کارڈ ہولڈرز کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ وادی چناب کے پہاڑی ضلع ڈوڈہ، جسے اس نئے نظام کے تجربے کے لیے ریاست بھر میں سب سے پہلے منتخب کیا گیا، وہاں ہزاروں مزدور کام کی جگہ پر موجود ہونے کے باوجود تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے اپنی حاضری درج کرانے سے قاصر رہے۔مقامی جاب کارڈ ہولڈرز اور سماجی کارکنوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دور افتادہ پہاڑی علاقوں میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی، کمزور سگنلز اور موبائل ایپلیکیشن میں تکنیکی پیچیدگیوں کی وجہ سے غریب مزدوروں کا پورا دن ضائع ہو رہا ہے۔ ایک طرف جہاں یہ مزدور سخت محنت مشقت کے لیے تیار ہیں، وہیں دوسری طرف ڈیجیٹل نظام کی خامیاں ان کی روزی روٹی کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت اور انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں کی جغرافیائی صورتحال اور انٹرنیٹ کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی جائے۔جب تک انفراسٹرکچر مکمل طور پر درست نہیں ہوتا، حاضری کے پرانے اور متبادل نظام کو بحال رکھا جائے تاکہ کسی بھی مزدور کی اجرت ضائع نہ ہو۔غریب عوام پر جدید ٹیکنالوجی کا بوجھ ڈالنے سے پہلے انہیں ضروری وسائل اور تربیت فراہم کی جائے.ضلع ڈوڈہ کے عوام نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے اس فیصلے کو فی الحال واپس لیں یا اس میں نرمی پیدا کریں، تاکہ غریب طبقہ فاقہ کشی پر مجبور نہ ہو.ادھر دوسری طرف حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے طریقہ کار کا واحد مقصد اسکیم میں شفافیت لانا و متعلقہ عملہ کو جوابدہ بنانا ہے. محکمہ دیہی ترقی کے ایک افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اگر چہ شروع میں اس میں مشکلات آرہی ہیں لیکن آہستہ آہستہ یہ حاضری لگانے کا طریقہ کامیاب ہو گا.