سرینگر// وادی میں12سال قبل2006میں بے نقاب ہوئے بدنام زمانہ سیکس سکینڈل کیس میں چندی گڑھ کی خصوصی عدالت نے سرحدی حفاظتی فورس کے سابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل اور پولیس کے ایک ڈپٹی سپر انٹنڈنٹ کو مورود الزام ٹھہرایا ہے۔ مجرموں کیلئے4 جولائی کو سزا دینے کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔سرینگر کے حبہ کدل علاقے میں12سال قبل فحش خانہ چلنے کا انکشاف ہوا تھا،جس کے بعد بڑے پیمانے پر اس معاملے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے،اور اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے پولیس کی ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم، جس کی سربراہی ایس ڈی پی او شہید گنج کررہے تھے،کی سربراہی میں تشکیل دی۔دوران تفتیش پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کو کئی اہم سراغ مل گئے ، جن میں کچھ فحش ویڈیوز، ایم ایم ایس اور لڑکیوں کی دلالی کرنے والے گروہ بھی شامل ہے۔اس سکینڈل میں ابتدائی طور پر 42لڑکیوں کے نام سامنے آئے تھے۔ ریاستی حکومت نے کیس کو سی بی آئی کے حوالے کیا جس نے دوران تحقیقات سیکس سیکنڈل کا پورا نیٹ ورک طشت از بام کیا اور اس ضمن میں گرفتاریاں عمل میں لائیں۔جن میں اس وقت کی حکومت کے دو وزراء بھی شامل ہیں۔اسکے علاوہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے نام بھی سامنے آئے تھے جن میں کچھ کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی تھی۔اس سکینڈل میںکئی افسران اور سیاست دانوں کے علاوہ تاجروں اور کچھ ہوٹل مالکان کے ناموں کاا فشاء ہوا تھا۔ اس حوالے سے جو چارج شیٹ عدالت میں پیش کیا گیا تھا،اس میں9ملزمان تھے،جبکہ شنوائی کے دوران ہی اس کیس کے اصل ملزم سبینہ، جو رہائی کے بعد کینسر کی مرض میں مبتلا ہوئی تھی اور انکے شوہر عبدالحمید بلا کی موت واقع ہوئی۔کیس کی حساسیت اور اس میں نابالغوں کے ملوث ہونے کے بعد تمام شنوائی ان کیمرہ کی گئی اور سی بی آئی نے کوڈ ورڑکا استعمال کیا،تاکہ شکایات کندہ گان اور گواہوں کی نشاندہی پر کوئی بھی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔پولیس نے مجموعی طور پر اس کیس میں56افراد کو مبینہ طور پر ملوث قرار دیا تھا۔2006میں ہی اس کیس کو چندی گڑھ منتقل کیا گیا تھا۔ اس بدنام زمانہ سیکس سکنڈل میں2وزراء اور ممبران اسمبلی کے علاوہ ریاست کے اعلیٰ ترین سیول و پولیس افسران ملوث پائے گئے تھے اور انکی گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئیں تھیں۔بدھ کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے5افراد کو مجرم قرار دیا،جبکہ2کی رہائی کے احکامات صادر کئے گئے۔اس کیس میں جن افراد کو مورود الزام ٹھہرایا گیا،ان میں شبیر احمد لاوے(شبیر کالا) شبیر احمد لنگو،مصور احمد(مقصود) ،ڈی ایس پی محمد اشرف میر اور ڈی آئی جی سرحدی حفاظتی فورس کے سی پاڑی شامل ہیں۔تاجر معراج الدین ملک اور اس وقت کے ایڈوکیٹ جنرل انیل سیٹھی کو عدالت نے بری کردیا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ عدالت آئندہ ہفتہ سزا کی حد مقرر کرے گی۔