جموں//پی ایم پیکیج کے تحت لگے کشمیر ی پنڈت ملازمین نے پھرایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنی جان کو لاحق خطرے کے پیش نظر وادی کشمیر سے جموں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے سابق ڈپٹی سی ایم کویندر گپتا کی گاڑی کو بھی روکا اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگائے۔سابق ڈپٹی چیف منسٹر اپنی گاڑی سے باہر آئے اور یقین دلایا کہ ان کے مطالبات کو پیش کیا جائے گا۔انہوں نے پی ایم پیکیج کے ملازمین کے احتجاج کے جواب میں کہا کہ “حکومت پی ایم پیکیج کے مطالبات پر غور کرے اور پی ایم پیکیج کے ملازمین کی تنخواہیں جاری کی جائیں”۔دریں اثنا، میڈیا سے بات کرتے ہوئے مظاہرین میں سے ایک نے کہا کہ “کشمیر میں کام کرنے والے پی ایم پیکیج کے ملازمین اپنی جان سے خوفزدہ ہیں اور وہ چنیدہ ہلاکتوں کی وجہ سے وہاں کام کرنے سے مطمئن نہیں ہیں”۔ان کا کہنا تھا کہ ‘‘کچھ ڈی ڈی اوز نے پی ایم پیکیج کے ملازمین کی تنخواہ روک دی ہے اور اپیل کی ہے کہ ان کی تنخواہیں نہ روکیں۔ ہمارے پاس تنخواہ کے علاوہ کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اس لیے تنخواہیں مستقل بنیادوں پر جاری کی جائیں‘‘۔مظاہرین نے کہا کہ کشمیر میں ہمارا کوئی کاروبار یا پھلوں کا باغ نہیں ہے کیونکہ ہم نے 90 کی دہائی میں سب کچھ چھوڑ دیا تھا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ پی ایم پیکیج کے ملازمین کو جموں میں حالات بہتر ہونے تک امداد و بازآبادکاری کمشنر جموں کے ساتھ منسلک کیا جائے۔