وزیر اعلیٰ کااظہار افسوس،عمر عبداللہ کا جذباتی ٹویٹ ،حملہ آور اپنے انجام کے خود ذمہ دار
پلوامہ +اننت ناگ//ایک مختصر وقفے کے بعد جنگجوئوں نے جنوبی کشمیر میں ایک بار پھر اپنی کارروائیاں شروع کرتے ہوئے پلوامہ اور اننت ناگ میں فورسز پر حملے کئے۔ پلوامہ میں جنگجوئوں کے حملے میں دو پولیس اہلکار جاں بحق جبکہ ایک شدید زخمی ہوا۔اس دوران اننت ناگ گرنیڈ حملے میں سی آر پی ایف کے 10اہلکار زخمی ہوئے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق پلوامہ میں جنگجوئوں نے عدالت کی عمارت کی حفاظت پر مامورپولیس پکٹ پر حملہ کیا ۔اس حملے میں 2پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے جبکہ حملے میں ایک اہلکار زخمی ہوا جسکو فوجی اسپتال منتقل کیا گیا۔جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کالج روڑ کے نذدیک پیر کے صبح گولی چلنے کی آواز سننے کے بعد اس وقت افراتفری مچ گئی ۔پولیس ذرائع نے بتایا پیر کی صبح گورنمنٹ ڈگری کالج کے قریب واقع کوٹ کمپلکس کی حفاظت پر مامور جموں کشمیر پولیس کے دو اہلکار اس وقت جاں بحق ہوئے جب جنگجووں نے عمارت کی حفاظت پرمامور اہلکاروں پر نزدیک سے گولیوں کی بوچھاڑ کی جس کے نتیجے میں ڈیوٹی پر موجود تین اہلکاروں میں سے 2 اہلکار سلکشن گریڈ غلام رسول لون ولد محمد افضل لون ساکنہ گاگل لولاب سلکشن گریڈغلام حسن ولد ولی محمد وگے ساکنہ پانزلہ بارہ مولہ موقعے پر جاں بحق ہوئے جبکہ حملے میں اہلکارسلکشن گریڈ منظور احمد ملہ ولد حاجی ثناو اللہ ملہ ساکنہ شتلو رفیع آباد بری طرح زخمی ہوا جبکہ حملہ آوروں نے جاں بحق اہلکاروں کا اسلحہ جس میں2ایس ایل رائفل شامل ہیں اپنے ساتھ اڑا کر لے کر فرار ہوئے جبکہ زخمی اہلکار کو فوری طور علاج معالجے کے لئے سرینگر منتقل کیا گیا ۔پولیس ذرائع نے مزید بتایاواقعے کے خبر ملتے ہی پولیس جائے واردات پر پہنچی اورخون میں لت پت اہلکاروں کو اسپتال لینے کی کوشش کی تاہم دونوں اہلکار موقعے پر ہی جاں ہوئے جبکہ حملے میں زخمی اہلکار کو پہلے مقامی اور بعد میں فوجی اسپتال سرینگر خصوصی علاج معالجے کے لئے داخل کیا گیا۔جبکہ فورسز نے حملہ آوروں کوتلاش کرنے کیلئے علاقے میںتلاشی کاروائی تیز کر دی ۔ادھر انت ناگ میں جنگجوئوں نے فورسز پر گرنیڈ داغا جس کی زد میں آکر 10سی آر پی ایف اہلکار شدید زخمی ہوئے۔ جنگجوئوں نے منگل کی صبح سحری کے وقت جنگلات منڈی میں تعینات سی آر پی اہلکاروں کی جانب گرنیڈ پھینکا جو زوردار دھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا ۔گرنیڈ کے آہنی ریزوں سے سنیٹرل ریزرو پولیس فورس سے وابستہ 10اہلکار زخمی ہوئے ہیں جن کو علاج معالجہ کیلئے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے ۔زخمیوں میں پندارام،بوٹا سنگھ،سبھاش ناتھ،وجے کمار ،نرویر سنگھ،جیت رام ،من بندر ،رمادان نرنجن،ہری شنکر و پونا چندرا شامل ہیں ۔اس واقع میں ایک عام شہری اعجاز احمد پتھر لگنے سے زخمی ہوا ہے ۔ادھر مہلوک پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت ادا کرنے کیلئے پولیس لائنز پلوامہ میں ایک خصوصی تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے دوران پولیس و سیول انتطامیہ کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی ۔اسدھر مہلوک اہلکاروں کی نماز جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی جس کے دوران انہیں پُر نم آنکھوں کی موجود گی میں آہوں اور سسکیوں کے بیچ سپر د لحد کیا گیا۔اس دوران ریاستی پولیس کے سربراہ نے پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کو بزدلانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر وادی میں امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی درپے ہیں اسی لیے وہ آسان حدف کو نشانہ بنارہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی
وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پلوامہ میں ہوئے حملے کے دوران دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی سختی سے مذمت کی ہے ۔ ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کو ایک بہی مانہ حرکت قرار دیا جسے اُس رات کے دوران کیا گیا جس میں پوری مسلم اُمہ اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں سربسجود تھی ۔ محبوبہ مفتی نے لوگوں کو ان واقعات سے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی وجہ سے لوگ ریاستی اور مرکزی حکومت کی طرف سے حال ہی میں ہاتھ میں لئے گئے عوام دوست اقدامات کے فائدوں سے محروم رہ جائیں گے ۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ زمینی سطح پر امن اقدامات کے مثبت اثرات کے ضمن میں متحد ہو جائیں کیونکہ اس طرح کے اقدامات سے انہیں کافی راحت نصیب ہوئی ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے مارے گئے پولیس اہلکاروں کے کنبوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اُن کی ایصالِ ثواب کیلئے دعا کی ۔
سابق وزیر اعلیٰ عمر عبدللہ
ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبدللہ نے پلوامہ میں دو پولیس اہلکاروں کی موت پر سخت تشویش اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملی ٹنٹ سیز فائر کو ناکام بنانے کیلئے ایسے حربے استعمال کر رہے ہیں ۔پلوامہ ضلع میں منگل کو دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی عمر عبداللہ نے سماجی رابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے تحریر کیا’ملی ٹنٹ تنظیمیں اپنی طرف سے پوری کوششیں کررہی ہیں کہ سیز فائر ناکام ہو ۔ حکومت ہند کی جانب سیز فائر کے ختم ہونے یا اس سے قبل اگر سیکورٹی فورسز نے اُنکے خلاف سخت جوابی کارروائی کی تو ملی ٹنٹ صرف خود کو اسکے لئے ذمہ دار ٹھہرائیں‘۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جنہوں نے پولیس اہلکاروں کو ہلاک کیا ،وہ جہنم کے حقدار ہیں ۔ انہوں نے کہا ’یہ سب کچھ شب قدر کی رات کے دوران ہوا،ان پولیس اہلکاروں کے قاتل جہنم کی آگ کے حقدار ہیں اور وہ اپنے آپ کو اسی آگ میں جلتے ہوئے پائیں گے،انہوں نے اس دوران سوگوار کنبوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ۔