پلوامہ+کولگام//ٹنگڈار جھڑپ میںمارے گئے پلوامہ اور کولگام کے جنگجوﺅںکودو ہفتے بعد آبائی علاقوں میں سپر دلحد کیا گیاجس کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے انکی نماز جناز ہ میں شرکت کی ۔پلوامہ اور کولگام اضلاع میں مکمل ہڑتال سے معمولات زندگی بری طرح متاثر رہیں۔پلوامہ قصبے میں فورسز اور نوجوانوں کے درمیان چوتھے روز جھڑپوں کے بعد غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ 26مئی کو کرناہ میں جاں بحق ہوئے دو مقامی جنگجوﺅںکی11روز بعد قبر کشائی کی گئی، جس کے دونوں جنگجوﺅں کی لاشوں کو انکے لواحقین کے سپرد کیا گیا۔نعشوں کودوران شب ہی انکے آبائی گھروں تک پہنچانے کے بعد بدھ کی صبح لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے گاڑیوں کے چھتوں، موٹر سائیکلوں پیدل سفر کر کے شیراز احمد شیخ ساکن لاجورہ پلوامہ اور پاریگام کولگام میں مدثر احمد کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے کا رخ کیا۔ لاجورہ میں دن کے ساڑھے دس بجے کے قریب نماز جنازہ ادا کیا گیا جس میں ضلع پلوامہ کے علاوہ مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کر کے اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔بعد میں انہیں لوگوں کی کثیر تعداد کی موجودگی میں سپرد خاک کیا گیا۔اسی طرح پاریگام کولگام میں مدثر احمد کی نماز جنازہ میں سینکڑوں لوگ شریک ہوئے اور بعد میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔مدثر بٹ کا جسد خاکی سحر ی کے وقت پاری گام پہنچایا گیا ۔صبح آ ٹھ بجے سے ان کی نما ز جنا زہ کا سلسلہ شروع ہو گےا ۔کئی نوجوانوں کو انتہائی جذباتی انداز میں اُس کے چہر ے کے بوسے لیتے دیکھا گیا ۔ لوگ ان کی ایک جھلک دیکھنے کیلئے ایک دوسرے پر گرنے لگے۔مدثر احمد کا پہلا نماز جنازہ مقامی نالہ کے کنارے پر ادا کیا گیا،جس کے دوران لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ہڑتال نہ کرنے کی پاداش میں نوجوانوں نے نجی گاڑیوں پر پتھراﺅ کیا، جس کی وجہ سے کئی گاڑیوں کے شیشے چکنا چور ہوگئے،بعد میں میر بازار میں فورسز اور پولیس کو تعینات کیا گیا۔دونوں اضلاع میں چوتھے روز بھی مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران تمام دکانیں، کاروباری ادارے ، سکول اور سرکاری دفاتر بند رہے ۔ سڑکوں پر پوائیویٹ و پبلک ٹرانسپورٹ بھی دستیاب نہیں تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے پلوامہ میں امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے تمام ہائر سکنڈی سکولوں اور کالجوں کو بند رکھا گیا تھا لیکن اس کے باوجود نوجوانوں کی ایک بڑی تعدادنے سڑکوں پر نکل کر علاقے فورسز پر پتھراﺅ کیا جس کے دوران فورسز نے آنسو گیس کے درجنوںگولے داغے جس کی وجہ سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا ۔انتظامیہ نے انٹرنیٹ اورریل سروس معطل رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔