جائیداد ٹیکس کیخلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج
جموں//جموں وکشمیر کی سرمائی راجدھانی جموں کی پرانی منڈی میں تاجروں نے پراپرٹی ٹیکس لاگو کرنے کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین نے ایل جی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ جائیداد ٹیکس کے فیصلے کو فوری طورپر واپس لیا جائے۔اطلاعات کے مطابق جمعرات کے روز جموں کی پرانی منڈی بازار میں تاجروں نے پراپرٹی ٹیکس کے خلاف احتجاج کیا۔مظاہرین نے بتایا کہ کورونا نے پہلے ہی تاجروں کو نقصان سے دوچار کیا اور ابھی سنبھل ہی نہیں پا رہے ہیں کہ سرکار نے پراپرٹی ٹیکس لاگو کیا۔ان کا کہنا تھا کہ جائیداد ٹیکس کو لاگو کرنے سے قبل لوگوں کی رائے کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئے تھا۔انہوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر ایک چھوٹی سی ریاست ہے یہاں پر جائیداد ٹیکس لاگو کرنا لوگوں کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہے۔انہوں نے مزید کہاکہ سرکار کو اس فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو جموں وکشمیر کے تاجر بند کال دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔
کانگریس کا پراپرٹی ٹیکس کیخلاف جموں میں احتجاج
جموں//جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے جمعرات کو یہاں پراپرٹی ٹیکس کے خلاف احتجاج درج کیا۔احتجاجیوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے اور وہ جم کر نعرہ بازی کر رہے تھے۔اس موقع پر پارٹی کے صدر وقار رسول نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا جی کہتے ہیں کہ یہ ٹیکس بہت کم ہے لیکن جب یہاں ٹول ٹیکس لگایا گیا تو وہ بھی پہلے صرف پچاس روپیے تھا جو آج تین سو روپیے ہے۔انہوں نے کہا: ’پراپرٹی ٹیکس اس سال اگر ایک سو روپیے ہے تو اگلے سال ایک ہزار روپیے اور پھر دس ہزار روپیے ہوگا‘۔ان کا کہنا تھا: ’حکومت چاہتی ہے کہ جموں کشمیر کے لوگ بھیک مانگیں، ڈیلی ویجر در بدر ہوجائیں‘۔موصوف صدر کا دعویٰ تھا کہ موجودہ سرکار غریبوں کے خلاف سرکار ہے جو چناؤ کرنے سے ڈرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگ اس سرکار کو یہاں سے باہر نکال دیں گے۔ان کا لوگوں سے کہنا تھا کہ وہ بھی سرکار خلاف کھڑے ہوجائیں۔
ادھم پور میں پراپرٹی ٹیکس کیخلاف اپنی پارٹی کا احتجاج
ادھم پور//اپنی پارٹی لیڈران اور ورکروں نے جموں وکشمیر میں پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے کے فیصلہ کیخلاف اودھم پور میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج کی قیادت صوبائی نائب صدر اور سابقہ لیجسلیچر فقیر ناتھ کر رہے تھے۔اس دوران اپنی پارٹی لیڈران نے حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کیخلاف نعرے بازی کی۔ انہوں نے کہاکہ بیروکریسی کی پالیسیوں اور طریقہ کا ر سے معمولات کی زندگی بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے۔فقیر ناتھ نے کہا’’ اودھم پور اور جموں وکشمیر کے دیگر اضلاع میں ترقی کا نام نہیں، حکومت نے ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی لانے کی بجائے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے پراپرٹی ٹیکس عائد کردیا جس سے پہلے ہی مالی بحران کا شکار لوگوں کو اضافی بوجھ پڑ گیا‘‘۔انہوں نے کہاکہ حکومتی فیصلہ کیخلاف لوگوں میں غم وغصہ ہے لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ پراپرٹی ٹیکس کا فیصلہ واپس لیاجائے۔دریں اثناضلع صدر اودھم پور ہنس راج ڈوگرہ نے بھی اِس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور پراپرٹی ٹیکس عائد کرنے سے لوگوں کی عام زندگی پر پڑے منفی اثرات پر اپنی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ لوگوں کو ٹیکس دینے پر مجبور نہ کیاجائے۔ اودھم پور میں غریب لوگ رہتے ہیں، اْن کی پسماندگی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔حکومت کو چاہئے کہ لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں نہ کہ اْن کی مشکلات میں اضافہ۔