جموں//وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تمام مدعے سیاسی، سفارتی اور فوجی سطح پر حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آزادی کے بعد سے ہی ہندوستان کو کسی نہ کسی طرح نقصان پہنچاتا آیا ہے لیکن پچھلے چار برس سے ہندوستان نے پاکستان کو کامیابی سے تنہا کر دیا ہے ۔ مرکز میں این ڈی اے سرکارکی چار سال مکمل ہونے کے سلسلہ میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’نریندر مودی سرکار کے بر سر اقتدار آنے سے قبل کئی ممالک جو پاکستان کے حوالہ سے ہمارے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں رکھتے تھے اب ہندوستان کی حمایت کر رہے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ملی ٹینسی آخری مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے ، فوج نے 600ملی ٹینٹوں کو ہلاک کر دیا ہے اور پاکستان بھی اس سے متاثر ہوئے بنا نہیں رہا ہے ۔ جتیندر سنگھ نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی طرف سے مضبوط رد عمل ظاہر کئے جانے سے پاکستان کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے اور اب مسائل کو سیاسی، سفارتی اور فوجی سطح پر حل کیا جائے گا۔ پاکستان اور حریت کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’پچھلے چار سال کے دوران مذاکرات نہیں ہوئے ہیں اور اگر کشمیر میں کوئی لیڈر جذبات میں آکر کہتا ہے کہ پاکستان اور دیگران کے ساتھ بات چیت ہونی چاہئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرکزی سرکار آنکھیں موند کر اسے قبل کر لے گی بلکہ حکومت ہند جب بھی مذاکرات پر کوئی فیصلہ لے گی تو وہ قومی مفادات کو مدِ نظر رکھ کر لیا جائے گا۔ماہ صیام کے دوران مرکز کی طرف سے اعلان کردہ سیز فائر کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ بظاہر کچھ اور نظر آتا ہے لیکن در حقیقت یہ پالیسی کا معاملہ ہوتا ہے ، یہ سیز فائر مشروط ہے اور نیک نیتی سے کیا گیا ہے ۔ ’یہ رمضان کا مہینہ ہے ، اگر آپ ایک اچھے مسلمان کی طرح روزہ رکھتے ہیں، قرآن کی پیروی کرتے ہیں تو ایک اچھے انسان کی طرح مجھے روزہ دار کا احترام کرنا ہوگا لیکن اگر آپ اسلام کے اصولوں کو توڑتے ہیں، قرآن اور روزے کا پاس نہیں رکھتے تو میں جوابی کارروائی نہ کرنے کیلئے مجبور نہیں ہوں ، اسلئے اوپریشن جاری ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے بارے میں کوئی بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، کچھ باتیں کہی نہیں جاتیں ان پر صرف عمل کیا جاتا ہے ۔اسمبلی حلقوں کی حد بندی کا ذکر کرتے ہوئے جتیندر سنگھ نے کہا کہ اگر چہ اس میں آئینی دشواریاں ہیں لیکن کم از کم اس کیلئے کمیٹی تشکیل دی جاسکتی ہے ۔حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں میں کٹھوعہ معاملہ دفعہ 370،35Aاور دیگر اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت نے کہا کہ ہمارا ترقیاتی اتحاد ہے نہ کہ نظریاتی۔