مانسہرہ//پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے باعث مرنے والوں کی تعداد 1136 ہوگئی جب کہ متاثرین کی مجموعی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، اب تک 10 لاکھ 51 ہزار گھر تباہ ہوئے جبکہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 75 افراد جاں بحق اور 57 زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق 24گھنٹوں کے دوران جاں بحق افراد میں 27 بچے 31 مرد ،17خواتین شامل ہیں، سیلاب سے جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد 386 تک پہنچ گئی جبکہ 227 خواتین اور 501 مرد شامل ہیں۔این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے 4 لاکھ 98 ہزار 442 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے جن میں سے 1575 افراد زخمی ہیں۔سیلابی ریلوں کی زد میں آنے سے 24 گھنٹے کے دوران مزید 7586 جانور ہلاک ہوئے جس کے بعد لقمہ اجل بننے کے والے مویشیوں کی مجموعی تعداد 7 لاکھ 27 ہزار 144 ہوگئی جب کہ 1 روز میں مزید 43013 مکانات تباہ ہوئے جس کے بعد تباہ شدہ مکانوں کی تعداد 9 لاکھ 92 ہزار 800 سے تجاوز کرگئی اور متاثرین کی تعداد نے 33 لاکھ 46 ہزار کا ہندسہ عبور کرلیا۔وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق موسلا دھار بارشوں اور سیلاب سے بیساکی پر کھڑی ملکی معیشت کو مختلف شعبوں میں اب تک 10 ارب ڈالرز کا نقصان پہنچ چکا ہے۔واضح رہے کہ نقصان کا تخمینہ ابتدائی اندازے کے مطابق لگایا گیا ہے جس میں اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔خیبرپختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے علاقے بالاکوٹ میں موسلادھار بارشوں اور سیلاب کے بعد صورتحال ابتر ہوگئی، منور ویلی میں غذائی اجناس کی قلت، بجلی بند اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہوگیا جس کے باعث تیس ہزار سے زائد افراد گزشتہ پانچ روز سے متاثرہ علاقے میں محصور ہیں۔متاثرین کی ریلیف اور بحالی کیلئے بالاکوٹ کے مقامی نمائندوں نے حکومت سے منور ویلی میں ہنگامی بنیادوں پر امداد سرگرمیاں شروع کرنے کا مطالبہ کردیا۔جنوبی پنجاب میں تونسہ، ڈی جی خان اور راجن پور کے سیلاب زدہ علاقوں میں میں بحالی کا کام شروع ہوگیا ہے تاہم اب بھی 4 لاکھ سے زائد افراد کھلے مقامات پر بیٹھے امداد کے منتظر ہیں۔راجن پور اور ڈیرہ غازی خان کے 516 مواضعات کے 4 لاکھ لوگ اور دو لاکھ ایکڑ فصلیں متاثر ہوئی ہیں، اب تک متاثرین میں 37 ہزار خیمے اور 40 ہزار فوڈ ہیمپرز تقسیم کئے جاچکے ہیں۔