محمد تسکین
بانہال// جموں سرینگر شاہراہ پر اتوار کو حال ہی میں کھولی گئی پنتھیال کی T-5 سرنگ کے دونوںدہانوں کے قریب ایک پہاڑی سے بھاری پتھر گر آئے جس سے تین گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا تاہم ان میں سوار لوگ معجزاتی طور بچ نکلے۔رام بن کے ڈپٹی کمشنر مسرت الاسلام نے اس معاملے کا سنجیدگی نوٹس لیا اور نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) سے کہا کہ وہ کمزور زون کا تکنیکی طور پر جائزہ لیں تاکہ 270 کلومیٹر ہائی وے پر سفر کرنے والے مسافروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ 880 میٹر لمبی T-5 پنتھیال ٹنل کو 16 مارچ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا تھا، جس سے مسافروں کو بہت زیادہ راحت ملی تھی کیونکہ اس نے پنتھیال کے سب سے کمزور حصے کو نظرانداز کیا تھا جو پہاڑی سے پتھروں کیے بار بار گرنے کیلئے بدنام رہا ہے۔حکام نے بتایا کہ فوجی قافلہ سرنگ سے گزر رہا تھا جب پہاڑی سے پتھر نیچے آنے لگے جس کے نتیجے میں ایک لگژری گاڑی کو نقصان پہنچا۔ تاہم اس کے تمام مکین بال بال بچ گئے۔اسکے علاوہ مزدید دو گاڑیاں بھی پتھروں کی زد میں آئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ٹنل کے دونوں جانب پتھر گرنے کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا جس کے نتیجے میں ٹریفک میں خلل پڑا اور تین گھنٹوں تک ٹریفک کی نقل و حرکت بند کی گئی۔پنتھیال پر اس قدر بھاری پتھر گرتے رہے کہ وہاںکچھ دیر کیلئے خوف کی کیفیت رہی۔ این ایچ اے آئی کو بھیجے گئے ایک مواصلت میں، رام بن کے ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ٹنل T-5 (ٹیوب 1) کے جنوبی پورٹل کے منہ کے قریب بڑے پیمانے پر پتھر گرنے کی سرگرمی پر اگر فوری طور پر کوئی تدارکاتی اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو مسافروں کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔انہوں نے کہا، ’’آپ کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ کمزور زون کا تکنیکی طور پر جائزہ لیں تاکہ جموں سرینگر شاہراہ (اب NH-44) کے ساتھ ساتھ ٹنل T-5 پر سفر کرنے والے مسافروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے فوری حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ NH-44 پر پنتھیال اسٹریچ نے مسافروں کو بڑی راحت دی ہے اور جام کی غیر موجودگی میں ٹریفک کے بہتر نظم و نسق میں بھی مدد کی ہے۔ ادھرڈی ایس پی ٹریفک بانہال محمد اصغر ملک نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ خوش قسمتی سے اس واقعہ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ محکمہ ٹریفک نے پہلے ہی گاڑیوں کو قطاروں میں روک رکھا تھا اور مسافروں کا بچائو ہوگیا ۔ انہوں نے کہا کہ صبح ساڑھے نو بجے سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک پتھروں کے جاری سلسلے کیوجہ سے ٹریفک بند رہا اور بعد میں اسے دوبارہ بحال کیا گیا ہے ۔