واشنگٹن//امریکی قانون سازوں کو لکھے گئے خط کے مطابق امریکی انٹیلی جنس حکام سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر سے برآمد ہونے والی خفیہ دستاویزات کے حوالے سے ممکنہ قومی سلامتی کے خطرات کا جائزہ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔امریکی داخلی سلامتی کی ایجنسی کے ذریعے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی رہائش گاہ سے ملنے والی دستاویزات کا جائزہ لیا جائیگا۔خیال رہے کہ چند روز قبل ایف بی آئی نے ٹرمپ کے گھر پر دھاوا بولا اور ان کے ریزورٹ سے حساس مواد پر مشتمل بکس برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا۔قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر ایورل ہینس نے داخلی سلامتی اور نگرانی کی کمیٹیوں کو بتایا کہ ان کا دفتر انٹیلی جنس کمیونٹی کے اس جائزے کی رہ نمائی کرے گا تاکہ اس بات کی جانچ کی جا سکے کہ صدر ٹرمپ کی رہائش گاہ سیملنے والی دستاویزات میں ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والی کوئی بات تو موجود نہیں۔مکتوب میں محترمہ ہینس نے کہا کہ ان کا دفتر محکمہ انصاف کے ساتھ کام کرے گا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تشخیص دستاویزات میں محکمے کی مجرمانہ تحقیقات سے متصادم نہ ہو۔ جائزے سے انٹیلی جنس کے ذرائع اور دستاویزات سے قابل شناخت معلومات کی نشاندہی کی جائے گی اور ان کے غلط ہاتھوں میں آنے کی صورت میں جانچ کی جائے گی۔