سرینگر //جموں وکشمیر میں کشیدہ حالا ت کے پیش نظر شوشل میڈیا کی وٹس اپ کالنگ سہولت کو بند کرنے کے امکانات پر سرکار کی طرف سے غورشروع ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنگجو وادی میں بیٹھ کر اس سہولت کے ذریعہ سرحد پار رابطہ میں رہتے ہیں۔ یہ معاملہ ایک میٹنگ کے دوران اٹھایا گیا جس کی صدارت ہوم سکریٹر راجیو گوبیا کر رہے تھے اور یہ میٹنگ2016میں جموں کے نگروٹہ علاقے میں ہوئے آرمی کیمپ پر حملے کے پیش نظر رکھی گئی تھی جس میں یہ معاملہ زیر بحث رہا ۔ ترجمان کے مطابق نگروٹہ حملہ میں ملوث گرفتار جنگجو نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ وٹس آپ کال کے ذریعے سرحد پار سے ہدایت لے رہے تھے ۔ ترجمان کے مطابق نگروٹہ حملہ میں 7 آرمی جون جنگجویانہ حملے میں ہلاک ہوئے تھے ۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس حوالے سے عسکریت پسندوں کی مدد کرنے کے جرم میں تین افراد کو حراست میں لیا تھا جنہیں جموں وکشمیر پولیس نے گرفتار کیا ۔ میٹنگ میں الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (میئٹی) وزارت کے اعلی حکام کے علاوہ خفیہ ایجنسیوں اور جموں وکشمیر پولیس کے اعلیٰ افسران نے بھی شرکت کی تھی۔ میٹنگ کے دوران افسران نے سوشل میڈیا کے ویب سائٹس سے اُس تمام مواد کو ختم کرنے پر تبادلہ خیال کیا جس سے امن وقانون کو نقصان پہنچنے کے علاوہ سماج میں زہر پھیلایا جا رہا ہے ۔ سیکورٹی ایجنسیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے فون کال کرنے سے انکے مسائل میں اضافہ ہوا ہے،جس کو سہولیات فرہم کرنے والوں کی طرف سے آخر تا آخر خفیہ رکھنے کی وجہ سے،وہ انکا پتہ لگانے میں ناکام ہو رہے ہیں۔معلوم ہو ا ہے کہ میٹنگ کے دوران خلیجی ممالک سمیت دیگر کچھ ملکوں کی مثال پیش کی گئی،جہاں وٹس آپ وایس(آواز) یا ویڈیو کال کرنے کی ممانعت ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں اس بات پر ان موثر اقدامات پرتبادلہ خیال کیا گیا کہ سماجی میڈیا پر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں،جنگجوئوں اور انفرادی طور پر پروپگنڈہ کرنے والوں کی طرف سے سیکورٹی چلینجوں پر کس طرح قابو پایا جائے،میٹنگ میں مختلف قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل بڑانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔