عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی//ووٹر ادھیکار یاترا کے تحت آرہ میں منعقدہ ایک عظیم الشانا اجلاسِ عام میں کانگریس رہنما راہل گاندھی، سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تیجسوی یادو نے مشترکہ طور پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں عوام سے تبدیلی کی اپیل کی۔ جلسہ گاہ میں ہزاروں افراد موجود تھے اور بارہا ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کے نعرے گونجتے رہے۔ تیجسوی یادو نے ہجوم سے براہ راست سوال کیا کہ کیا بہار میں ووٹ کی چوری ہو رہی ہے؟ اور مجمع سے تائیدی نعرے بلند ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ’’گجرات سے آئے دو لوگ فیصلہ نہیں کر سکتے کہ بہار کا کون شہری ووٹ دے گا اور کون نہیں۔ یہ بہار ہے، یہاں کے عوام کو دھوکہ دینا آسان نہیں۔‘‘ سماجوادی پارٹی صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بہار کا یہ انتخاب محض ایک ریاستی انتخاب نہیں بلکہ پورے ملک کی سمت کا فیصلہ کرے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ بہار کے لوگ ہمیشہ ناانصافی اور استحصال کے خلاف ڈٹے ہیں اور اس بار بھی بی جے پی کے رتھ کو یہیں روکا جائے گا۔ راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ لڑائی صرف ووٹ کی نہیں بلکہ عوام کے حق اور مستقبل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی نے عوام کے روزگار اور مواقع چھین لیے ہیں، چاہے وہ پبلک سیکٹر ہو یا فوج میں بھرتی کا موقع۔ یہ سب کچھ چند بڑے صنعت کاروں کے ہاتھوں میں سونپ دیا گیا ہے۔‘‘راہل گاندھی نے ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے مہاراشٹر، ہریانہ اور لوک سبھا انتخابات میں دھاندلی کی لیکن بہار کے عوام کسی قیمت پر ووٹ کی چوری نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ صرف ووٹ چوری نہیں بلکہ آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ اگر ووٹ کا حق بچا تو ہی جمہوریت بچے گی اور اگر جمہوریت بچے گی تو ہی آئین محفوظ رہے گا۔‘‘راہل گاندھی نے تیجسوی یادو اور اکھلیش یادو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت نوجوانوں اور کسانوں کی آواز کو مضبوط بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم سب مل کر بہار کو بی جے پی کی چالوں سے محفوظ کریں گے اور عوام کے حقوق کو بچائیں گے۔‘‘