عادل فراز
وقف ترمیمی بل کی مخالفت کا سلسلہ قومی سطح پر جاری ہے ۔مسلم پرسنل لاءبورڈ سمیت متعدد قومی اداروں اور ملّی تنظیموں نے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کیاہے ۔اس بل کے خلاف مسلمان یکساں نظرآرہے ہیں، بلکہ اکثر فعال اداروں ،متحرک تنظیموں اورمسلکی تفریق کے بغیر تمام رہنمائوں نے مخالفت میں آواز بلند کی ہے ۔اگرچہ اس بل کی حمایت میں اِکّا دُکّا وہ مسلمان بھی ہیں جن کی مسلمانوں میں کوئی خاص وقعت نہیںہے۔اگر مسلمانوں کے درمیان ہر مسئلے پر اسی طرح اتحاد کا مظاہرہ ہوتارہے تو صورت حال میں یقیناً مثبت تبدیلی رونما ہوگی اور حالات دھیرے دھیرے بہتر ہونے لگیں گے ۔ملک کے مسلمان اپنے سماجی اور سیاسی مسائل کے تئیںاگر بیداری کا مظاہرہ کریںگے اور متفقہ طور پر ایک لائحہ عمل تیار کریں گے تواُن کےہر مسئلے کا حل ضرور نکل سکے گا۔مگر یہ کام تبھی ممکن ہے جب تمام مذہبی و سیاسی رہنما ملت سے مخلص ہوکر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور ملک کی اکثریتی آبادی میں موجود سیکولر ذہنوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر آئیں گے ۔مسلمان رہنمائوں اور ملّی تنظیموں کو مخالفانہ لایحۂ عمل پر بھی غورکرناہوگا۔کیونکہ حکومت نے اس بل کو ملک کی بہبود اور عوام کی ترقی سے جوڑدیاہے ۔ہندوستان کی اکثریتی آبادی کو یہ باورکرادیاگیاہے کہ اگر اوقاف کی املاک کو واپس لے لیاجاتاہے تو اس کی آمدنی سے ملک کااقتصاد بہتر ہوگا۔یوں بھی موجودہ حکومت عوام کو بہلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے ۔ایسے میں سرکار سے کسی موضوع پر بحث کرنا اور اس میں غالب آجانا آسان بھی نہیں ہے ۔اس کے لئے ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہوگی جس کے لئے علما کو دانشوروں سے بھی مشورہ کرناچاہیے ۔ملک میں اچھے وکلااور مدبر موجود ہیں جن کے ساتھ مشاورتی جلسےہونےچاہئیں۔ علماءہر معاملے میں اپنے فیصلے کو حرف آخر نہ سمجھیں ،اس سے ان کے مخلصانہ اقدام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ البتہ دانشوروں کو بھی مصلحت کا لبادہ اُتاکر میدان عمل میں آناہوگا ۔ہمارے دانشور طبقہ کی بڑی مشکل یہی ہے کہ وہ میدان عمل سے دوربھاگتے ہیں ،جس کی بناپر قوم ان سے نزدیک نہیں ہوپاتی ۔
وقف ترمیمی بل پر حکومت نے اکثریتی طبقے کو اپنا حامی بنالیاہے ۔انہیں بھی یہ لگتاہے کہ مسلمانوں نے منظم سازش کے تحت ہندوئوں کی زمینوں پر قبضے کرکے انہیں وقف کردیاتھا۔اس لئے ہندوئوں کا ایک بڑا طبقہ وقف بل کا حامی ہے ۔بعض وہ لوگ جو سرکار کے حامی تو نہیں ہیں مگر وہ اس بل پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیںکیونکہ کہیں نہ کہیں وہ بھی سرکاری مشینری کے پروپیگنڈے کی زد میں ہیں۔ان کی ذہنی کشمکش دورکرنے کے لئے مسلمانوں کے دانشور طبقے کو آگے ہونا ہوگا اور تاریخی تناظر میں انہیں وقف کی سچائی بتلانا ہوگی ۔کیونکہ انہیں خودساختہ مورخ جو کچھ بتلارہے ہیں ،وہ اُسی کو حقیقت سمجھ بیٹھتےہیں ۔اُن سے یہ تک کہا جاتا ہے کہ کیااوقاف کی زمینیں مسلمان اپنےساتھ لے کر آئے تھے ، یہ تمام جائدادیں اِسی ملک کی ہیں جس پر ہندوئوں کا پہلا حق ہے ۔ان کے مطابق مسلمانوں نے منظم لایحہ عمل کے تحت خالی زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں وقف کردیاتھا،اسی لئے آج جن اداروں کے پاس زیادہ زمینیں ہیں ان میں وقف بورڈ بھی شامل ہے ۔ان کا کہناہے ملک میں جتنی سرکاری عمارتیں اور دفاتر ہیں اکثر پر مسلمان دعویٰ کرتےہیں کہ وہ وقف کی زمین پر ہیں ۔آخر وقف بورڈ کے پاس اتنی زمین کیسے اور کہاں سے آئی؟کیونکہ مسلمانوں کے کہے کے مطابق پارلیمنٹ ،ریلوے اسٹیشن کئی ریاستوں کی اسمبلیاں ،سرکاری اور ذاتی بنگلے اور دفاتر وقف کی زمینوں پر ہیں ۔یو پی کے وزیر اعلیٰ نے تو وقف بورڈ کو مافیابورڈ تک کہہ دیا ہے۔ اس کےبعد عام ہندوئوں کے ذہنوں پر کیااثرات مرتب ہوئے ہوں گے ؟اس کا اندازہ لگایاجاسکتاہے۔
اوقاف کے بارے میں وقف بورڈ بھی کبھی مخلص نہیں رہا۔پہلے سے موجود اوقاف کی حفاظت کے بجائے نئی املاک کو وقف بورڈ میں درج کرنے کا کھیل شروع ہوا ۔وقف بورڈ نے ہر درگاہ ،خانقاہ ،مسجد اور امام باڑے کی زمینوں کو وقف میں درج کرنے کی کوشش کی ،جب کہ ان کا تعلق وقف سے نہیں تھا۔ایساکئی جگہوں پر ہوااور کئی مقامات پر یہ کوشش ناکام بھی ہوئی ۔یہ مسئلہ بھی زیادہ پیچیدہ نہیں ہے کیونکہ جن زمینوں کو زبردستی وقف بورڈ میں درج کیاگیاہے ،اُن کا ریکارڈ زیادہ پرانا نہیں ہوگا۔اصل مسئلہ تو سیکڑوں سال پرانے اوقاف کا ہے جن کا ریکارڈ بھی اب دستیاب نہیں ہے۔وقف قانون تو انگریزی عہد میں بھی مختلف مراحل سے گذرااور تمام اوقاف کے دستاویز کئی مرتبہ گردش زمانہ کی نذر ہوئے۔آزادی کے بعد پہلا وقف ایکٹ ۱۹۵۴ء میں بناتاہم اس کو منسوخ کردیاگیااور پھر نیا ایکٹ ۱۹۵۵ء میں بنا،جس کے بعد مسلسل اس میں ترمیم و تنسیخ ہوتی رہی ۔انگریزی عہد سے اوقاف کا ریکارڈ بورڈ آف ریونیواور بورڈ آف کمشنرز کے پاس ہوتاتھا۔اس کے بعد جب ۱۹۱۳ء میں اوقاف کی نگرانی کے لئے الگ قانون بنایاگیاتب یہ ریکارڈ متعلقہ اداروں کو بھی منتقل کیاگیا،اس لئے موجودہ سرکاریں اس ریکارڈ کو کھنگال سکتی ہیں۔ جب کہ اکثر اوقاف کے وقف دستاویز اب موجود نہیں ہیں لیکن کوئی نہ کوئی ریکارڈ ضرور موجود ہے، جس سےاس کی وقف حیثیت ثابت ہوسکتی ہے ۔کیونکہ اوقاف کی جو املاک صدہا سال سے موجود ہیں انہیں قبضے کی ذہنیت کی پیداوار نہیں کہاجاسکتا۔کیا ہندوستان میں موجو سیکڑوں سال پرانی مسجدیں ،امام باڑے ،خانقاہیں ،مزارات اور ان کی متعلقہ اراضی کو قبضے کی ذہنیت کی پیدوار کہاجائے گا؟
سرکار کے ترجمان اور بی جے پی کے بعض رہنما کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اوقاف سے آج تک مسلمانوں کی فلاح کے لئے کوئی نمایاں اقدام نہیں ہوا،اس لئے اب اوقاف کو سرکار کی نگرانی میں ہوناچاہیے ،اس میں بڑی حد تک سچائی بھی ہے ۔ہندوستان میں اوقاف کی بے شمار زمینیں اور عمارتیں ہیں مگر وہاں سے مسلمانوں کی ترقی اور بہبود کے لئے کوئی منصوبہ سازی نہیں ہوئی ۔ورنہ اگر خالی زمینیں اسکولوں ،اسپتالوں اور رفاہی اداروں کی تعمیر کے لئے دی جاتیں تو آج یہ صور تحال پیش نہیں آتی ۔اترپردیش کےپایۂ تخت لکھنؤ میں بے شمار وقف کی زمینیں خالی پڑی ہیں ۔زیادہ تر زمینوں پر مسلمانوں اور کچھ زمینوں پر غیر مسلموں کے ناجائز قبضے ہیں ۔ان قبضوں کے پیچھے متولی بھی ہیں اور وقف بورڈ بھی ۔سیکڑوں زمینیں قبضہ کرلی گئیں مگر نہ کسی غریب کو گھر بنانے کے لئے دی گئی اور نہ کسی قومی ترقی کے لئےزمینوں کا صحیح استعمال کیاگیا۔وقف بورڈ میں جب بھی کوئی چئیرمین آتاہے تو وہ خود کواوقاف کا نگراں اور ذمہ دار سمجھنےکے بجائے مالک تصور کرنے لگتاہے ،اس لئےوقف ناموں کے برخلاف فیصلے صادرہوتے ہیں ۔اب تک ایک بھی وقف بورڈ ایسانہیں ہے جس سے مسلمانوں کی ترقی کا کوئی منصوبہ سامنےآیاہو۔اس لئے وقف بورڈ کی حمایت یا وکالت کرناسمجھ سے پرے کی بات ہے ۔لیکن وقف بورڈ میں موجود بدعنوانی کی بناپر وقف بورڈ کو ہی ختم کردیاجائے ،یہ بھی درست نہیں ۔اگر وقف بورڈنے وقف املاک کے تحفظ کے لئے سنجیدگی سے کام کیاہوتاتو آج اس کے وجود پر سوال نہیں اٹھتے۔خوداحتسابی تو ہندوستان میں تمام سابقہ اور موجودہ اوقاف کے ذمہ داروں کو بھی کرنی چاہیے اور سرکار کو بھی ۔ہر ناکامی کا ٹھیکرا مسلمانوں کی عام آبادی کے سر نہیں پھوڑاجاسکتا ۔
رابطہ۔7355488037
[email protected]