عرفات رسول
اگربزم ہستی میں عورت نہ ہوتی
خیالوں کی رنگینی جنت نہ ہوتی !
درج بالا شعر میں ایک روح کی آواز موجود ہے ،ایک وجود کی خواہش پنہاں ہے ، جی ہاں! یہ آپ کی اور میری یعنی ایک عورت کی آواز ہے، جو چیخ چیخ کے کہتی ہے مجھے حق دو تاکہ میں اپنی آواز بن سکوں، وہ آواز جو برسوں سے دبائی گئی ہے ، وہ آواز جو خوف اور فرسودہ نیز غیر انسانی روایتوں کی زنجیروں میں جھکڑی رہی ہے ۔مجھے حق دو تاکہ میں اپنے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکوں، وہ خواب جو میرے دل میں پلتے ہیں، وہ خواب جو اِس دنیا کو بہتر جگہ بنا سکتےہیں، جس کو شاعر نے شعری پیکر میں اس طرح پرویا ہے ۔
ستاروں کے دلکش فسانے نہ ہوتے
بہاروں کی نازک حقیقت نہ ہوتی
ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ آج سے پندرہ سو سال ،اسلام سے پہلے دورِ جہالت تھا، اُس وقت بیٹیوں کو پیدا ہونے سے پہلے ہی مار دینے کا رواج عام تھا، لیکن اللہ نے ظلمت مٹانے کے لیے حضرت محمدؐ کو دونوں جہانوں کے لیے رحمت العالمین بنا کر بھیجا ۔ حضوراکرمؐنےنہ صرف اس رواج کا خاتمہ کیا بلکہ عورت اور مرد کے بیچ مساوات اور اپنے اپنے حقوق کا علم ، تعلیم اور پیغام دیا اور اس پیغام کو عام کرنا ہی عاشقاں رسولؐ نےاپنی زندگیوں کا مقصدو محور بنایا۔اسلام میں علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے، قرآن مجید میں ارشاد ہے: ’’پڑھو !اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ۔‘‘ یہ آیت نہ صرف مردوں بلکہ عورتوں کے لیے بھی تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔بقول اقبال؎
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا
واضح رہے اس ملت کے مقدر کے ستاروں میں عورت کے روپ میں حضرت حواؑ، حضرت خدیجہؓ،حضرت عائشہ ؓ، حضرت فاطمہؓ اور اسی طرح سے قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنی عظمت ،کردار،قابلیت ،لیاقت،ہنر آزمانے والی عورتوں میں مدر ٹریسا ،میری کیوری ، سنیتا والیم ،ہندوستان کی موجودہ صدر درو پتی مرمو ایسی خواتین ہیں، جنہوں نے اپنی قوتِ بازو اور قابلیت کے جوہر دکھا کر اپنے حقوق حاصل کر کے عام خواتین کے لیے راہیں اموار کیں ۔حضرت عائشہؓ نے نہ صرف فقہ اور حدیث کے علم میں مہارت حاصل کی بلکہ معاشرتی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔حضرت خدیجہ ؓمکہ کی دولت مند خاتون تھی اور اس دور میں تجارت کرتی تھی، حضرت صفیہؓ نے اپنی بہادری سے میدانِ جنگ میں دشمنوں کے خمیں اکھاڑ دیں اور خود رسول اللہ ؐ کی نسل بیٹی حضرت فاطمہؓ یعنی ایک عورت سے چلی بیگم سلطان ، آما رضیا سلطان ،ملالہ یوسف وہ عورتیں تھی جنہوں نے معاشرے میں رہ کر اپنی موجودگی کا لوہا منوایا، اسلام میں عورت کا مقام بہت بلند ہےجب بیٹی ہوتی ہے تو باپ کے لیے جنت کا دروازہ کھولتی ہے، بیوی بنتی ہے تو اپنے شوہر کا آدھا دین مکمل کرتی ہے اور جب ماں کے درجے پر فائز ہوتی ہے تو جنت اس کے قدموں تلے رکھ دی جاتی ہے ۔اے عورت تجھے سلام! بلاشبہ تو ہی معاشرے کی پہچان ہے، تم ہی تو ہو جو بہترین تربیت سے مرد کو معاشرے میں اس کا مقام دلاتی ہو اور وقت آنے پر اس کا حصولا بنتی ہو۔
تمام آسمانی ہدایات ، مذہبی علوم، سماجی اصولوں اور اخلاقی و روایتی اصولوں کے مطابق عورت ہر روپ میں قابلِ احترام ہے۔ لیکن افسوس ہمارے آج کے اس ترقی یافتہ معاشرے میں بھی عورت کو وہ عزت و مقام حاصل نہیں جو اللہ رب العزت نے اس کے لیےمخصوص کیا تھا، اتنی تعلیم اور ترقی کے بعد بھی عورت کی آواز کو دبایا جاتا ہے، اس کے خوابوں کو کچلا جاتا ہے اور اس کی عزت کو پامال و رُسوا کیا جاتا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک اس قوم کی خواتین مردوں کا ساتھ نہ دے۔ خواتین کو آزاد ،با اختیار اورمضبوط بنانے کے لیے تعلیم کا حصول بنیادی ضرورت ہے ۔کیونکہ آج کی پڑھی لکھی بیٹی کل کی پڑھی لکھی ماں ہوگی، جو آنے والی نسلوں کی اچھی تربیت کر سکیں ۔انہیں اس بات کا احساس دلائے کہ عورت کوئی کھلونا نہیں، پائوں کی جوتی نہیں، عورت تو سر پہ سجایا جانے والا تاج ہے تو شاید کل کسی بیٹی کو شبنم جان جو پہلگام کی رہنے والی تھی، اس کی طرح بے دردی سے قتل کر کے جلایا نہ جائے، کٹھوعہ کی آٹھ سالہ بچی آصفہ بانو کی طرح کسی معصوم کی عزت کو پامال و رُسوا نہ کیا جائے اور بانڈی پورہ کی بائیس سالہ عشرت جان کی طرح کسی کو بے رحمی سے قتل کر کے خود سوزی کی واردات بتا کے بند نہ کیا جائے ۔
عورت ایک آئینہ ہے جو نہ صرف ہماری دنیا کی اصلیت بلکہ امکانات بھی دکھاتی ہے تو آئیے ہم سب مل کر اس آئینے میں دیکھیں اور وہ دنیا دیکھیں جو بن سکتی ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں عورتوں کو ڈر نہیں اُمید ہو ،جہاں عورتوں کی آواز دبائی نہیں،سُنی جائے اور جہاں ان کے سپنے ٹوٹے نہیں پورے ہو ۔
(رابط۔ طالبہ گورنمنٹ ڈگری کالج، حاجن ۔ سمسٹر ششم )
[email protected]>