مختار احمد قریشی
عصرِ حاضرہ میں والدین اور بچوں کے درمیان فاصلے میں اضافہ ایک سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ تیز رفتار زندگی، ٹیکنالوجی کے بے تحاشا استعمال اور روایتی خاندانی اقدار کی کمزوری نے والدین اور اولاد کے درمیان ایک غیر محسوس دیوار کھڑی کر دی ہے۔ پہلے کے زمانے میں والدین بچوں کی زندگی کا مرکز ہوتے تھے، مگر آج کے دور میں موبائل فون، سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل مصروفیات نے بچوں کو والدین سے دور کر دیا ہے۔ والدین بھی اپنی مصروفیات، روزگار کی دوڑ اور معاشی پریشانیوں میں اس قدر الجھے ہوئے ہیں کہ وہ بچوں کی جذباتی اور نفسیاتی ضروریات کو پورا نہیں کر پاتے۔ نتیجتاً والدین اور بچوں کے درمیان وہ محبت اور اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ رہا ہے جو کبھی خاندان کی بنیاد سمجھا جاتا تھا۔اس خلیج کی ایک بڑی وجہ والدین کی مصروفیت اور بچوں کی بدلتی ہوئی ترجیحات ہیں۔ آج کے بچے اپنی خوشیاں اور تسکین والدین کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے موبائل گیمز، سوشل میڈیا اور آن لائن تفریح میں ڈھونڈتے ہیں۔ والدین بھی بعض اوقات بچوں کے مسائل کو سمجھنے کے بجائے انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بچے اپنی پریشانیوں اور احساسات کو والدین سے شیئر کرنے کے بجائے دوستوں یا اجنبی آن لائن کمیونٹیز میں پناہ لیتے ہیں، کچھ والدین اپنی اولاد پر غیر ضروری دباؤ ڈال کر انہیں تعلیم، کیریئر یا سماجی توقعات کے بوجھ تلے دبا دیتے ہیں، جس سے بچے والدین سے مزید دور ہو جاتے ہیں، وہ جذباتی اور ذہنی طور پر الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں والدین سے قربت مزید کم ہو جاتی ہے۔اس بڑھتے ہوئے فاصلے کو کم کرنے کے لیے والدین کو بچوں کی زندگی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ بچوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزارنا، ان کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا اور ان کی دلچسپیوں میں حصہ لینا اس خلا کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ ٹیکنالوجی کے مثبت اور منفی اثرات کو سمجھیں اور اپنے بچوں کو اعتدال میں رہ کر اس کا استعمال سکھائیں۔ اسی طرح، بچوں کو بھی یہ احساس ہونا چاہیے کہ والدین کی محبت بے غرض ہوتی ہے اور ان کے تجربات اور نصیحتیں ہمیشہ ان کے فائدے کے لیے ہوتی ہیں۔ اگر دونوں طرف سے تعلقات میں کھراپن، محبت اور اعتماد بحال ہو جائے تو والدین اور بچوں کے درمیان فاصلہ کم ہو سکتا ہے اور خاندان کا بندھن مضبوط ہو سکتا ہے۔
بچوں اور والدین کے درمیان بڑھتے فاصلے کی ایک اور بڑی وجہ روایتی خاندانی نظام کا زوال ہے۔ پہلے کے زمانے میں مشترکہ خاندانی نظام بچوں کو دادا، دادی، چچا، پھوپھی جیسے بزرگوں کی صحبت فراہم کرتا تھا جو نہ صرف ان کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتے تھے بلکہ والدین اور بچوں کے درمیان ایک متوازن رشتہ بھی قائم رکھتے تھے۔ تاہم آج کے دور میں نیوکلیئر فیملی سسٹم کے فروغ نے بچوں کو محدود ماحول میں پروان چڑھنے پر مجبور کر دیا ہے، جہاں والدین کی مصروفیات انہیں بچوں سے مزید دور کر دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بچوں کو وہ جذباتی سہارا اور رہنمائی نہیں مل پاتی جو انہیں ایک متوازن شخصیت بنانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اگر والدین خاندانی نظام کی اہمیت کو سمجھیں اور بچوں کو بزرگوں کے قریب رکھیں تو اس خلا کو کسی حد تک پُر کیا جا سکتا ہے۔(جاری)
(رابطہ۔8082403001)
[email protected]