اِکز اقبال
میری امی جان کہا کرتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی شعبے میں فراڈ ممکن ہیں، مگر تعلیم کا شعبہ اس سب سے مبرا ہیں۔ مگر یقین مانیں آج اگر کسی شعبے میں سب سے زیادہ مادیت اور بے ضابطگی گھس چکی ہیں اور فراڈ اور دلالی ہورہی ہیں تو وہ تعلیم کا شعبہ ہے۔ خاص طور پر ہمارا امتحانی نظام۔ کہتے ہیں کہ قوموں کی ترقی میں ان کے نظام تعلیم کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ زندگی کے ہر شعبے میں ربط و ضبط کے لیے تعلیم کا ہونا لازمی ہے ۔ ایک اچھا، منظم اور جدید تعلیمی نظام قوموں کے بہترین اور خوشحال مستقبلِ کا ضامن ہوتا ہے۔
ہمارے بچے ہمارے مستقبل کا سرمایہ ہےاور انہیں بہترین تعلیمی زیور سے آراستہ کرانا ہمارا فرض بھی ہے اور ہماری ترجیحات میں بھی شامل ہونا چاہیے ۔
مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے سماج میں اگر کسی شعبے میں سب سے زیادہ دھوکہ ہورہا ہے تو وہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ اور ان کے مستقبل کے ساتھ۔
اس سال یعنی 2024 کے نیٹ امتحان کے نتائج نے تعلیم کے اس مقدس نظام کو لوگوں کے سامنے ایک داغ دار شعبہ بنا کے رکھ دیا۔ والدین ‘ بچوں اور سماج کے ذی شعور باشندوں کو ملک کا تعلیمی نظام جو پہلے سے ہی ابتری کا شکار تھا _، اب اور اندھیری کی طرف جاتا ہوا نظر آرہا ہے۔
نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) جو 2016 سے نیٹ (NEET) کے امتحانات کراتی ہے۔ اس سال کے نیٹ کے امتحانات 05 مئی 2024 کو پورے ملک میں 4750 امتحانی مراکز میں کرائے گئے۔ جس میں تقریباً 24 لاکھ سے زیادہ امیدواروں نے شرکت کی ۔ امتحانات کے نتائج 14 جون 2024 کو آنے تھے۔ مگر اس بار کچھ عجیب ہوا۔ این ٹی اے نے نتائج 14 جون کے بجائے 04 جون 2024 کو ہی نکالے۔ ٹھیک اسی دِن جس دِن ملک بھر میں منعقد کئےگئے لوک سبھا انتخابات کے بھی نتائج آنے والے تھے۔ نیٹ کے نتائج کو تاریخ سے بیشتر نکالنا سب کے لیے حیران کن تھا۔
صرف اتنا ہی نہیں۔ اس بار کے نیٹ امتحان کے نتائج میں بہت ساری چیزیں حیران کردینے والی ہیں۔ جو لوگوں کے ذہنوں میں بہت سارے شقوق و شبہات پیدا کردیتی ہے۔ ایک حیران کن انکشاف یہ بھی ہے کہ اس سال کے نیٹ کے نتائج میں 67 طلباء نے سو فیصد کامل 720 نمبر حاصل کیے جو کہ NTA کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔ 2020 اور 2023 کے درمیان، صرف سات امیدوار NEET میں مکمل نمبر حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ کامل اسکورز میں اس اچانک اضافے نے سب کے ذہنوں میں شکوک پیدا کر دئیے اور ملک کے سب سے بڑے امتحانی ادارے پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے۔
اس شک کا مرکز ہریانہ کے جھجھر میں ہردیال پبلک اسکول ہے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اکیلے اس سنٹر کے چھ طلباء نے 720 میں سے 720 نمبر حاصل کیے ہیں۔ یہ بے ضابطگی سوال پیدا کرتی ہے: سو فیصد اسکور میں اتنا ڈرامائی اضافہ فراڈ کیے بغیر کیسے ہو سکتا ہے؟
اس بے ضابطگی کے اثرات بہت گہرے ہیں۔ وہ طلباء جنہوں نے ایک باوقار میڈیکل کالج میں جگہ حاصل کرنے کے لیے برسوں سے انتھک محنت ‘ مطالعہ کوششیں اور اپنا وقت وقف کیا، ان کے خواب چکنا چور ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ان کے والدین نے کتابوں اور کوچنگ میں بہت زیادہ پیسے خرچ کئے ہوتے ہیں اور اب وہ جذباتی طور مجروح، مالی نقصان سے ذہنی بیمار اور اپنے بچوں کا مستقبل دھندلا دکھائی دینے سے زیادہ پریشان ہیں ۔ اس سب کی وجہ سے تعلیمی نظام میں اعتماد کو بری طرح مجروح کیا گیا ہے۔
ایسے میں لگ رہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے، بدعنوانی اور بے ضابتگی کے الزامات کے بعد طلباء اور والدین کے ذہنوں میں یہ بات گونجنے لگی کہ کچھ تو گڑبڑ ہے۔ جس کی پردہ داری ہورہی ہے۔ غصہ ناگزیر ہے۔ بچوں نے انتھک محنت کی ہوتی ہے۔ ان کی امیدوں اور امنگوں کو پامال کیا گیا ہے۔ کیوں کہ بہر حال بات بچوں کے مستقبل کی ہے۔ بات ملک کے مستقبل کی ہے۔ بات تعلیمی اور امتحانی نظام کے بگڑتی صورتحال کی ہے۔
لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے دن نیٹ کے نتائج کا اعلان کرنے نے شکوک و شبہات کو مزید ہوا دی ہے۔ اس دِن جب سارے قوم کی توجہ انتخابی نتائج پر تھی ،ایسے میں نیٹ کے نتائج کا اعلان کرنا اسٹریٹجک اور سوچھی سمجھی سازش معلوم ہوتی ہے۔
اس طرح کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے امتحانی عمل میں شفافیت اور منصفانہ پن پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ اور حال ہی میں NTA کی جانب سے 1567 طلباء کو گریس نمبر دینے میں غلطی کا اعتراف اور دوبارہ امتحان کی پیشکش نے افراتفری اور اُلجھن میں مزید اضافہ کیاہے۔ ایسے میں فراڈ زیادہ گہری دکھائی دے رہی ہیں ۔
اس اسکینڈل نے ملک کے تعلیمی نظام میں واضح خامیوں کو بے نقاب کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت اصلاحات کی ضرورت کو اُجاگر کیا ہے کہ اس طرح کی دھوکہ دہی کبھی نہ دہرائی جائے۔ ایک منصفانہ حل تلاش کرنے میں سپریم کورٹ کی مداخلت بہت ضروری ہے جو امتحانی عمل میں اعتماد بحال کرے۔
موجودہ صورتحال ’’تعلیم دلالی‘‘ سے کم نہیں ہے۔ ایک اصطلاح جو تعلیم کے شعبے میں استحصال اور بدعنوانی کی نشاندہی کرتی ہے۔ لاتعداد خواہشمند ڈاکٹروں کا مستقبل ایک تاریک سایہ ڈالتے ہوئے توازن میں لٹکا ہوا ہے۔
نیٹ 2024 کے نتائج کی ناکامی نے ہندوستانی تعلیمی نظام پر ایک انمٹ داغ چھوڑ دیا ہے۔ ہمارا تعلیمی نظام کئی سالوں سے بے ضابطگیوں کا شکار ہے۔ خاص طور پر امتحانی نظام انصاف اور شفافیت سے دور دکھائی دے رہا ہے۔ امتحانی نظام کو جلد از جلد پاک کرنے کی ضرورت ہے۔ملک میں تعلیمی نظام ناقص تدریسی عملے سے لے کر ناقص امتحانی نظام تک کے کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسے ناقص تعلیمی نظام کی وجہ سے قوم کے نوجوان اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور ان کا مستقبل داؤ پر ہیں۔ ضرورت ہے تعلیمی اور امتحانی نظام میں سدھار لانے کی ،تاکہ ہر محنت کرنے والے بچوں کو اس کا حق ملے اور پھر وہ قوم و ملک کی ترقی کا ضامن بنے۔
(رابطہ۔ : 7006857283)
: [email protected]
��������������������������