سرینگر// شہر خاص کے نوہٹہ علاقے میں فورسز کی گاڑی نے3نوجوانوں کو ٹکر مار کر کچل دیا،جنمیں سے 2کو چوٹیں آئیں اور ان میں ایک کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔نیم فوجی دستے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ 600 نوجوانوں پر مشتمل مظاہرین نے گاڑی میں سفر کر رہے ایک افسر کو پکڑنے کی کوشش کی۔جس پر وہاں جھڑپیں ہوئیں۔عینی شاہدین کے مطابق جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔’’نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں نے نوہٹہ چوک میں پرامن طور پر احتجاج کیا،اور اس دوران سی آر پی ایف کی ایک گاڑی وہاں سے گزری اور مظاہرین نے اس پر شدید پتھرائو کیا جس کے باعث گاری مظاہرین میں گھس گئی جس کے باعث تین نوجوان اسکی زد میں آگئے تاہم گاڑی 2نوجوانوں کو روندتی ہوئی نکل گئی۔نوجوانوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ واضح رہے چند روز قبل صفا کدل علاقے میں اسی طرح کے ایک واقعہ میں ایک نوجوان کو کچل ڈالا گیا تھا۔نوہٹہ میں جمعہ کو زخمی ہونے والے نوجوانوں کی شناخت یونس احمد ولد نثار احمد ساکن ڈلگیٹ اور قیصر احمد ساکن فتح کدل کے بطور ہوئی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق یونس احمد کی صورتحال تشویشناک ہے۔ذرائع کا کہنا ہے’’ اس کے جسم میںاندرونی چوٹیں لگی ہیں‘‘۔اس حوالے سے سی آر پی ایف ترجمان سنجے شرما نے بتایا کہ قریب600احتجاجی مظاہرین سی آر پی ایف کی گاڑی کے ارد گرد جمع ہوئے،جبکہ گاڑی میں سی آر پی ایف کا ایک سنیئر افسر سفر کر رہا تھا،جو کہ علاقے میں فورسز کی تعیناتی کی جانچ کر رہے تھے۔انہوں نے بتایا’’مشتعل ہجوم نے گاڑی کا عقبی درواز کھولنے کی کوشش کی،تاہم وہ اندر سے بند تھا،مگر انہوں نے گاڑی کے شیشوں کو چکنا چور کیا‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ گاڑی کے ڈرائیور نے گاڑی کی رفتار کم کرنے کی کوشش کی،اور نوجوانوں کو انہوں نے نہیں کچلا۔ جب نوجوانوں کے فورسز گاڑی سے کچلنے کی خبر علاقے میں پھیل گئی تو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے،جس کے ساتھ ہی فورسز اور پولیس کی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں،جو کہ شام تک جاری رہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے ٹیر گیس اور پیلٹ کا استعمال کیا،جس میں5 نوجوان زخمی ہوئے۔