پوارہ//ہندوارہ کے ضلع اسپتال کے باہر اس وقت سنسنی پھیل گئی جب وہا ں ایک زائلو گاڑی میں دو افراد کو بے ہوش پایا گیا جن میں ایک نوجوان دم گھٹنے کے نتیجے میں لقمہ اجل بن گئے جبکہ دوسرے کو بے ہوشی کے عالم میں اسپتال منتقل کیا گیا ۔عینی شاہدین کا کہنا ہے شاہ نگری ماور کے عبدالمجید خان اپنی ہمشیرہ جو درد زہ میں مبتلا تھی کے ساتھ منگل کی شام کو ضلع اسپتال ہندوارہ پہنچ گئے جہا ں ڈاکٹرو ں نے مریضہ کی حالت دیکھ کر اس کو اسپتال میں ہی دا خل کیا ۔مریضہ کے ساتھ ایک تیمادار خاتون نے بتایا کہ عبد المجید خان اور اس کے بہنوئی بلال احمد خان نے دوران شب ایک زائلو گا ڑی جو اسپتال کے صحن میں کھڑی تھی سونے کے لئے گئے جس کے دوران انہو ں نے گرمی حاصل کرنے کے لئے گا ڑی کو ہیٹر چالو کیا ۔تیمادار خاتون نے بتا یا کہ جب عبد المجید بدھ کی صبح 9بجے تک مریضہ کے پاس واپس نہیں آئے تو وہ اسپتال سے باہر آئی اور وہا ں پر دو نو ں نو جوانو ں کو بے ہوش پایا جس کے بعد وہا ں پر بہت سے لوگ جمع ہوئے ۔عینی شاہدین نے بتا یا کہ جو ں ہی عبد المجید خان اور دو سرے نوجوان کو باہر لایا گیا تو ان میں عبد المجید خان کو مردہ پایا گیا جبکہ دوسرے نو جوان کو فوری طور ضلع اسپتال میں داخل کیا گیا تاہم بعد میں انہیں بے ہوشی کی حالت میں ہی سرینگر منتقل کیا گیا جہا ں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ڈاکٹرو ں کا کہنا ہے کہ دوران شب انہو ں نے زائلو گاڑی میں گرمی کے لئے جوہیٹر چالو رکھا اس سے گاڑی میں گیس جمع ہو اجس کے نتیجے میں ان کا دم گھٹ گیا اور آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دو نو ں بے ہوش ہوگئے جن میں بعد میں عبد المجید خان لقمہ اجل بن گئے۔اسپتال میں تعینات طبی عملہ کا کہنا ہے کہ دو نو ں نوجوانو ں کو بتا یا گیا کہ اسپتال میں سو جائو لیکن انہو ں نے نہیں انکار کیا ۔پولیس نے عبد المجید خان کی نعش کو اپنی تحویل میں لیکر قانونی لوازمات پورا کر نے کے بعد تحقیقات شروع کی ۔