اِشا ایلیا
جیسے ہی دنیا ترقی کے نئے دور میں داخل ہوئی، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے متعارف ہوئی تو نوجوانوں میں گویا خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نوجوان اپنی فرسٹریشن کو ختم کرنے کےلیے گھنٹوں کے حساب سے انٹرنیٹ کو وقت دینے لگے۔ جیسے جیسے انٹرنیٹ میں جدت آئی فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام، واٹس ایپ متعارف ہوئے تو نوجوان نسل کو تو گویا اپنی جنت کا راستہ مل گیا اور وہ دنیا و مافیہا سے بیگانہ ہوکر اس جنت میں گھس گئے۔
اس ضمن میں خاندانوں پر یہ اثر پڑا کہ انٹرنیٹ استعمال کرنے کےلیے ضروری تھا کہ اُن کے پاس اچھے قسم کے موبائل، آئی فون، آئی پیڈ اور بہتر رفتار کے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر ہوں۔ اس کے نتیجے میں موبائل اور کمپیوٹر انڈسٹری کو پھیلنے کا راستہ مل گیا۔ ہمارے معاشرے میں اس کا سب سے زیادہ نقصان تو یہ ہوا کہ جس موبائل کو خریدنا عام اور متوسط طبقے کا فرد اپنی سکت نہیں سمجھتا تھا، اب اُنہی گھروں میں خاندان کے ہر فرد کے پاس اینڈروائیڈ فون اور آئی فون موجود ہیں اور انٹرنیٹ کے کنکشن اور پیکیجز حاصل کر رکھے ہیں۔
ملک میں موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعدادکروڑ وں میں ہے۔ گھر میں چاہے راشن ہو یا نہ ہو لیکن انٹرنیٹ کا ہونا بہت ضروری ہے۔