عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وادی میں ہر سال اپریل کے آخر میں شروع ہونے والا میکڈامائزیشن عمل اس سال مکمل طور پر رک گیا ہے۔ حکام نے اس تاخیر کی وجہ جاری گلف بحران کو قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں کوئل ٹار (بٹومین) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق وادی میں ہر سال اپریل کے آخر میں شروع ہونے والا سڑکوں کا میکڈامائزیشن عمل اس سال مکمل طور پر رک گیا ہے۔ حکام نے اس تاخیر کی وجہ جاری عالمی بحران کو قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں کوئل ٹار (بٹومین) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ٹھیکیداروں نے پچھلے سال یا رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں بولیاں جمع کرائی تھیں، جنہیں جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر تیار کیا گیا تھا۔ اب کوئل ٹار کی قیمتیں 40 سے 50 فیصد بڑھ گئی ہیں اور بعض صورتوں میں تقریباً دوگنی ہو چکی ہیں۔
اس وجہ سے ٹھیکیدار پرانے نرخوں پر کام کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ایک سرکاری ذریعے نے بتایا “حکام کا کہنا ہے کہ وہ کوئل ٹار جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر فراہم نہیں کر سکتے۔ قیمتوں کا فرق اتنا زیادہ ہے کہ نہ حکومت اور نہ ہی ٹھیکیدار اسے برداشت کر سکتے ہیں۔” اس صورتحال نے حکام کو دو راستوں پر لا کھڑا کیا ہے: یا تو موجودہ مارکیٹ ریٹ پر نئے ٹینڈر جاری کیے جائیں یا حکومت سبسڈی دے کر کوئل ٹار کم قیمت پر ٹھیکیداروں کو فراہم کرے۔ یہ بحران صرف کشمیر تک محدود نہیں ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں بھی سڑکوں کے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں، دہلی سمیت کئی ریاستوں میں ٹھیکیدار مالی مشکلات کے باعث کام روک چکے ہیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ زیادہ تر سرکاری معاہدوں میں قیمتوں میں اضافے کی شق شامل نہیں ہوتی، جس کے باعث اچانک قیمت بڑھنے کا بوجھ مکمل طور پر ٹھیکیداروں پر پڑتا ہے۔ اب حکام پر دباؤ ہے کہ وہ جلد کوئی حل نکالیں تاکہ بارشوں سے پہلے سڑکوں کی مرمت کا موسم دوبارہ شروع ہو سکے۔