نیوز ڈیسک
سرینگر//آئی جی (کشمیر آپریشنز) ایم ایس بھاٹیہ نے کہا ہے کہ سی آر پی ایف پوری طرح سے لیس ہے اور کشمیر میں انسداد شورش کی کارروائیوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے قابل ہے، اگر نیم فوجی فورس کو ایسا کرنے کا کام سونپا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ گزشتہ تین سالوں میں وادی میں سیکورٹی کی صورتحال میں زبردست بہتری آئی ہے، لیکن فورس چوکس ہے اور ملک دشمن عناصر پر نظر رکھے ہوئے ہے۔آئی جی بھاٹیہ نے کہا، “سی آر پی ایف کے پاس اس طرح کے (انسداد بغاوت) کے حالات میں مؤثر طریقے سے کام کرنے کی صلاحیت، تربیت اور ٹیکنالوجی ہے، میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں،” ۔وہ گزشتہ ماہ ایک قومی روزنامے کی ایک رپورٹ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مرکزی حکومت مرحلہ وار طریقے سے کشمیر میں اندرونی علاقوں سے فوج کو ہٹانے پر غور کر رہی ہے۔بھاٹیہ نے کہا”یہ ایک پالیسی مسئلہ ہے جس کا فیصلہ اعلیٰ سطح پر کیا جاتا ہے اور ہمیں جو بھی مینڈیٹ دیا جائے گا ہم اس پر عمل کریں گے، ابھی بھی، ہم فوج اور پولیس کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں سرگرم ہیں،” ۔سی آر پی ایف نے 2005 میں کشمیر میں انسداد شورش کی کارروائیوں میں بی ایس ایف کی جگہ لے لی تھی۔بھاٹیہ نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد وادی کی صورتحال میں “بڑی تبدیلی” آئی ہے۔انہوں نے کہا”اگر ہم ایسی صورت حال کی بات کریں جو منسوخی سے پہلے کی تھی اور اب کی صورت حال، پچھلے دو تین سالوں میں اس میں کافی بہتری آئی ہے”۔تاہم، انہوں نے مزید کہا، “ہم یہ دعویٰ نہیں کر رہے ہیں کہ ہم نے عسکریت پسندی کا مکمل صفایا کر دیا ہے، لیکن جو پہلے ہوا کرتا تھا، تعداد سکڑ گئی ہے، بھرتی سکڑ گئی ہے، دہشت گرد کی لائف کم ہو گئی ہے،ہو سکتا ہے کہ چند گمراہ نوجوان صفوں میں شامل ہو جائیں لیکن وہ بھی بہت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔بھاٹیہ نے کہا کہ انٹیلی جنس نیٹ ورک “بہت اچھا” ہے، جو مجرموں پر نظر رکھنے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے کہا”نئے بھرتی ہونے والوں کی تعداد جو اس قسم کی بیان بازی کی طرف راغب یا لالچ میں آتی ہے، یقینی طور پر کم ہو گئی ہے۔ یہاں تک کہ عوام میں بھی ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس قسم کے عناصر کی حمایت کم ہو گئی ہے،‘‘ ۔بھاٹیہ نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال میں کافی بہتری آئی ہے، جبکہ پتھراؤ صفر پر آ گیا ہے۔