اننت ناگ //قاضی گنڈ کے ملہ پورہ میربازار میں جمعرات کو جنگجوئوں نے بی ایس ایف کی ایک کانوائے پرحملہ کیا،اس حملے میں اگرچہ کوئی زخمی نہیں ہواتاہم فورسز نے فوری طور علاقے کو گھیرے میں لیکر جنگجوئوں کو محصور کردیاجس کے بعد مسلح تصادم آرائی شروع ہوئی جس دوران ایک اہلکاراور دوشہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔شام دیر گئے جنگجوئوں کے خلاف آپریشن کو روک دیاگیا لیکن فورسز کی اضافی کمک کو آ س پاس علاقوں میں تعینات کیاگیا۔ جمعرات دوپہر ڈیڑھ بجے کے قریب جموں سے سرینگر کی طرف آرہی بی ایس ایف کانوائی پر ملہ پورہ میر بازار کے نزدیک جنگجوئوں نے فائرنگ کی تاہم اس واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے، اس بیچ فورسز اہلکاروں نے علاقہ کو گھیرے میں لیا جس کے بعد جنگجو ایک گودام میں محصور ہوگئے اور طرفین کے مسلح تصادم آرائی شروع ہوگئی جس دوران ایک اہلکار اور دوشہریوں کے زخمی ہوئے۔فورسز اہلکاروں نے بلڈنگ میں محصور جنگجو ئوںکے خلاف وسیع آپریشن شروع کیا۔مسلح تصادم آرائی کے دوران سی آرپی جوان امیش سنگھ ولد پربو سنگھ ساکنہ جھارکھنڈ زخمی ہوگیا۔ معلوم ہواکہ فائرنگ کے تبادلے میں دوعام شہری 25سالہ ساحل یعقوب بٹ ولدمحمدیعقوب ساکنہ دانتر اننت ناگ اور22سالہ شاہدفاروق ولد فاروق احمد شیخ ساکنہ لارم گانجی پورہ کولگام زخمی ہوگئے ،جن کواسپتال منتقل کیاگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں دوسے تین جنگجوئوں موجود ہو سکتے ہیں۔ ْ پولیس نے اس واقعے کے بعد ایک ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ جنگجوئوں نے جموں سرینگرشاہراہ پربی ایس ایف کانوائے پر حملہ کیا تاہم ان کے حملے میں کسی فورسز اہلکار کو کوئی چوٹ نہیں پہنچی۔پولیس کے مطابق واقعہ کے فوراً بعد فورسز نے مذکورہ جنگجوئوں کو محاصرے میں لینے میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد پولیس حکام بھی جائے واردات پر پہنچ گئے۔پولیس نے کہا کہ فورسز کی کمک بھی وہاں پہنچ گئی ہے اور مزید کارروائی جاری ہے۔آئی جی پی کشمیر وجے کمارکا کہنا ہے کہ وہ جی او سی وکٹر فورس کے ہمراہ آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں ۔جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی سرینگر جموں شاہراہ پر قاضی گنڈ اور کھنہ بل کے مقام پر گاڑیوں کو روکا گیا جس کے باعث شاہراہ پر سینکڑوں چھوٹی بڑی گاڑیاں درماندہ ہو کر رہ گئی ہے۔حفاظتی ذرائع کے مطابق رات دیر گئے جنگجوئوں کے خلاف کارروائی کو روک دیا گیاتاہم فورسز کی اضافی کمک کو آس پاس کے علاقوں میں تعینات کیا گیا تاکہ جنگجوئوں کوفرار ہونے کی موقعہ نہ ملے۔(مشمولات کے این ایس،جے کے این ایس)
کرناہ میں اسلحہ وگولہ بارود برآمد کرنے کا دعویٰ
اشرف چراغ
کپوارہ//کرناہ میں حد متارکہ کے نزدیک پولیس اور فوج نے ایک مشترکہ کاروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود ضبط کرنے کا دعویٰ کیاہے ۔پولیس نے اس حوالہ سے ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ۔پولیس کے مطابق کپوارہ ضلع کے کرناہ علاقہ میں حد متارکہ نزدیک حاجی ترہ گائو ں کے جنگلات میں پولیس اور فوج نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر تلاشی کاروائی شروع کی ،جس کے دوران پولیس اور فوج نے دعویٰ کیا ہے جنگلی علاقہ میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود چھپا رکھا تھا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ بر آمد شدہ اسلحہ وگولہ بارود میں پانچ پستول ،ایک سو پچاس پستول کی گولیا ں ،پندرہ ہتھ گولے ،پانچ میگزین اور برائون شوگر کے پاکٹ کے علاوہ قابل اعتراض مواد بھی شامل ہے ۔
تھنہ منڈی تلاشی مہم ساتویں روز میں داخل
سمت بھارگو
راجوری //راجوری ضلع کے تھنہ منڈی سب ڈویژن میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے شروع کی گئی تلاشی مہم ساتویں دن میں داخل ہو گئی تاہم اس سلسلہ میں مزید کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں کی تلاشی کے سلسلہ میں مہم کو مسلسل جاری رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ مہم کے دوران بھنگائی کیساتھ ساتھ دیرہ کی گلی ،منیال ،منگوٹہ ،عظمت آباد ودیگر علاقوں کو بھی اس مہم کے دائرہ میں لایا گیا ہے ۔غور طلب ہے کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے گزشتہ ہفتے ایک خفیہ اطلاع موصول ہونے کے بعد تلاشی مہم شروع کی گئی تھی جس کے دوران ہوئے تصادم میں دو ملی ٹینٹ ہلاک ہو گئے تھے تاہم اس دوران سیکورٹی ایجنسیوں نے حدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تصادم کے دوران کم از کم ایک ملی ٹینٹ فرار یا علاقہ میں ہی موجود ہے ۔بدھ کے روز سیکورٹی فورسز کو ہینڈ گرینڈ بھی برآمد ہوا تھا ۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ فوج اور پولیس کی جانب سے تلاشی مہم مسلسل جاری رکھی گئی ہے جبکہ اس مہم کا دائرہ وسیع کردیا گیاہے ۔