سرینگر// سرینگر کے ایک ہوٹل میں گزشتہ دنوں ایک فوجی افسر میجر گگوئی کو ایک کمسن دوشیزہ کے ساتھ مشکوک حالت میں گرفتار کرنے کے کیس میں عدالت نے پولیس کو 4دنوں کے اندر مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ فوج کی53آر آر سے وابستہ میجر لتل گگوئی کو بدھ کے روز سرینگر کے ایک ہوٹل میں کمسن دوشیزہ کے ساتھ مشکوک حالت میں پولیس نے حراست میں لیا تھا،جس کے بعد انہیں متعلقہ یونٹ کے سپرد کیا گیا۔اس سلسلے میں سنیچر کو بشری حقوق کارکن اور انٹرنیشنل فورم فار جسٹس کے چیئرمین محمد احسن اونتو نے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک عرضی دائر کی،جنہوں نے اس سلسلے میں مکمل رپورٹ عدالت کو پیش کرنے کامطالبہ کیا تھا۔ عرضی پر نوٹس لیتے ہوئے چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر نے ایس ایس پی سرینگر کے علاوہ ایس پی نارتھ اور ایس ایچ او خانیار کو ہدایت دی کہ وہ عدالت کے سامنے حاضر ہوکر اس بات کی وضاحت کریںکہ کن بنیادوں پر انہوں نے واقعہ کے سلسلے میں کیس درج نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل اونتو نے جو عرضی عدالت میں پیش کی،اس میں کہا گیا کہ میجر گگوئی23مئی کو ایک کشمیری ساتھی سمیر احمد ملہ اور ایک دوشیزہ کے ہمراہ سرینگر کے ایک ہوٹل میں غیر اخلاقی کام کرنے کیلئے پہنچا،تاہم ہوٹل انتظامیہ کے ساتھ مخاصمت کے بعد ہوٹل منیجر نے پولیس کو مطلع کیا۔ دائر عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ میجر گگوئی نے پہلے ہی کمرہ بک کیا تھا،اور وادی میں موجودہ سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر کسی بھی اہلکار کو اس طرح عام شہری کی حالت میں رہنے کی اجازت نہیں ہے،جس سے یہ معلوم پڑتا ہے کہ میجر گگوئی کے مذموم مقاصد تھے،جس کے بعد ایک کشمیری ساتھی ،ایک لڑکی کے ہمراہ ملنے کو آئے،تاہم ہوٹل کے ملازمین نے ا نہیں اس کی اجازت نہیں دی،اور معاملہ پولیس تک آن پہنچا،جس کے بعد پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کا بھی اعلان کیا۔عرضی میں کہا گیا تاہم یہ لگ رہا ہے کہ اس کیس کو جلدی میں نپٹایا گیا۔عرضی میں کہا گیا ’’ اس واقعے کے صرف آدھ گھنٹے بعد ہی پولیس نے میجر گگوئی،انکے کشمیری ساتھی سمیر اور دوشیزہ کوقانونی طریقہ کار کو یک طرف کر کے رہا کردیا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پولیس نے اس اہم نوعیت کے کیس کو معمول کی طرح نپٹانے کی کوشش،اور ایسا تاثر پیش کیا،کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ اونتو نے عرضی میں کہا ہے کہ غیر درخواست گان (پولیس) اس کیس کی تحقیقات میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہے۔