سرینگر// انسانی ڈھال کے طور پر نوجوان کو استعمال کرنے والے فوجی میجر کو اعزاز سے نوازنے کے خلاف مشترکہ مزاحمتی اتحاد کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کی کال کے نتیجے میں پائین شہر،مائسمہ،سوپور،حاجن،اجس بانڈی پورہ اور پلوامہ میں پرتشدد مظاہرے ہوئے۔جس میں2نوجوان پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے جبکہ ایک اہلکار بھی مجروح ہوا۔جامع مسجدسرینگر میں نماز جمعہ کے بعد میرواعظ عمر فاروق کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں متعدد سرکردہ حریت قائدین ، کارکنوں اور عوام کی بڑی تعداد نے حصہ لیا ۔احتجاجی مظاہرین’’ سرکاری دہشت گردی بند کرو اور فوجی میجر کو تمغہ دینے کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارر بھی اٹھا رکھے تھے جن پر بشری حقوق کی مامالیوں کو بند کرنے کے الفاظ درج کئے گئے تھے۔ اس موقعہ پر اسلام و آزادی کے حق میں بھی نعرہ بازی کی۔ جلوس اختتام پذیر ہوا تو نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں میں بھارت مخالف پوسٹر لئے آزادی کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے ایک اورجلوس نکالنے کی کوشش کی۔تاہم پہلے سے موجود پولیس و فورسز اہلکاروں نے ان کا تعاقب کرنا شروع کیا ۔ پولیس نے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور شلنگ کا سہارا لیا۔ نوجوانوں نے پتھرائو کیا۔پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے پیلٹ چلا کرمرچی گیس کے گولے داغے۔ پلیٹ لگنے کے نتیجے میں نوہٹہ میں عمر رسول ولد غلام رسول وانی ساکن خانیار اور عاصف قادر ولد غلام قادر ڈارساکن لالبازار کو صدر اہسپتال منتقل کیا گیا تاہم انکی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ جھڑپوں میں ایک پولیس اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ احتجاجی مظاہروں کا دائرہ بعد میں وسیع ہوگیا اور گوجواراہ،ملارٹہ کے علاوہ دیگر نواحی علاقوں میں بھی پھیل گیا۔ سرینگر کے مائسمہ علاقے میںبھی ایک احتجاجی مظا ہر ہ منعقد ہوا، جس میںنور محمد کلوال، شوکت احمد بخشی، معراج الدین، الطاف احمد شاہ، شیخ عبدالرشید، سید امتیاز حیدر، محمد یاسین بٹ،سراج الدین میر، رمیز راجہ،، عمر عادل ڈار، محمد صدیق شاہ، پروفیسر جاوید احمد نے شرکت کی ۔ احتجاجی مظاہرین نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔ سوپور میں بھی نماز جمعہ کے بعد نوجوان مرکزی جامع مسجد کے باہر جمع ہوئے جبکہ بعد میں سڑکوں پر نمودار ہوئے اور انہوںنے جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔نامہ نگار غلام محمد کے مطابق تاہم راستے میں موجود پویس و فورسز اہلکاروںنے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیںدی جس پر جلوس میں شامل نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوںنے پولیس و فورسز اہلکاروں پر پتھرائو کیا۔ اس موقعہ پر پولیس و فورسز اہلکاروںنے ان کا تعاقب کر کے جوابی پتھرائو کیا ،جس کے بعد نوجوانوںنے گلی کوچوں میںاپنا مورچہ سنبھالتے ہوئے فورسز اہلکاروں پر پتھرائو جاری رکھا جس کے جواب میں پولیس نے اشک آوار گولے داغے۔ کافی دیر تک طرفین کے مابین جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ نمائندے کے مطابق جھڑپوں کی وجہ سے افراتفری کا ماحول پیدا ہوا، جبکہ دکانداروں نے بھی دکانیں بند کی اور کچھ وقفہ کیلئے ٹریفک کی آمدرفت میں بھی خلل پر گئی۔ادھر حاجن بانڈی پورہ میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس نکالا گیا اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔نامہ نگار عازم جان کے مطابق اس موقعہ پر جب پولیس نے جلوس کو روکا تو مشتمل نوجوانوں نے پتھرائوکرکے آرمی گڈ ول سکول کو نشانہ بنایا ۔طرفین کے درمیان کافی دیر تک تصادم جاری رہا ہے تاہم کسی کی زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ادھر اجس میں احتجاجی جلوس برآمد ہوا ۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ علاقے میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی جلوس برآمد ہوا جس کے دوران احتجاجی مظاہرین نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی۔ اس موقعہ پر مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پہلے سے موجود پولیس اور فورسز اہلکاروں نے انکا تعاقب کیا جبکہ نوجوانوں نے سنگبازی کی۔بعد میں صورتحال معمول پر آگئی۔