نیپیت//یو این آئی// میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف ہورہے احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم 91 لوگ مارے گئے ہیں۔میانمار ناؤ کی سنیچر کو شائع رپورٹ کے مطابق مقامی وقت چار بجکر 30 منٹ تک احتجاجی مظاہروں کے سبب 91 لوگ مارے گئے ہیں۔مظاہروں کے دوران یانگون، باگو، منڈالیہ اور نزدیکی علاقوں میں لوگ مارے گئے ہیں۔رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی صبح سویرے یانگون ڈالا کے نواحی علاقے میں پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے والے ہجوم پر سیکیورٹی فورسزنے فائرنگ کی۔دارالحکومت نیپائٹاو میں 'آرمڈ فورسز ڈےکے موقع پر فوجی پریڈ کی صدارت کرنے کے بعد سینئر جنرل من آنگ ہیلنگ نے بغیر کوئی ٹائم فریم دیے ہوئے انتخابات کرانے کا وعدہ کیا۔سرکاری فوج نے ٹیلی ویژن پر براہ راست نشریات میں کہا کہ 'فوج جمہوریت کے تحفظ کے لیے پوری قوم کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکام نے عوام کی حفاظت اور ملک بھر میں امن کی بحالی کے لیے بھی کوشش کی ہے۔ایک اندازے کے مطابق فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرین پر ہونے والے کریک ڈاؤن میں اب تک 328 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔میانمار کے جرنیلوں کی جانب سے مسلح افواج کا دن منایا اور ساتھ ہی مظاہرین کے لیے انتباہ جاری کیا کہ انہیں باہر نکلنے پر 'سر اور پیٹھ میں گولی لگ سکتی ہے۔معزول قانون سازوں کی قائم کردہ فوج مخالف گروپ سی آر پی ایچ کے ترجمان ڈاکٹر ساسا نے ایک آن لائن فورم کو بتایا کہ 'آج کا دن مسلح افواج کے لیے شرم کا دن ہے۔انہوں نے کہا کہ فوجی جرنیلوں نے 300 سے زائد بے گناہ شہریوں (مظاہرین) کی ہلاکت کے بعد مسلح افواج کا دن منایا۔سرکاری ٹیلی وڑن کی جانب سے جمعہ کی شام کو ایک انتباہ جاری کیا گیا کہ 'آپ (عوام) کو حالیہ اموات کے تناظر میں حالات کو سمجھنا چاہیے کہ آپ کے سر اور کمر میں گولی لگنے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔انتباہ میں خصوصی طور پر یہ نہیں کہا گیا کہ سیکیورٹی فورسز کو دیکھتے ہی مارنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔