کپوارہ+سرینگر+کولگام+پلوامہ// 12روز قبل کرناہ سیکٹر کے شمس بری پہا ڑ پر فوج اور جنگجو ئوںکے درمیان جھڑپ میں جا ں بحق ہوئے 2مقامی جنگجوئوں مد ثر احمد اور شیراز احمدکو قبر کشائی کے بعد ان کے لواحقین کے سپرد کردیا گیا ۔معلوم ہو اہے کہ 3روز قبل اس بات کا انکشاف ہوا کہ کرناہ کے شمس بری پہاڑ پر فوج اور جنگجو کے درمیان جھڑپ میں 5مارے گئے جنگجوئو ں میں سے پاریگام کو لگان کا مدثر احمد تھا اور اس کی تصویر جب سوشل میڈیا پر اپلو ڈ ہوئی تو افراد خانہ نے دعوی ٰ کیا کہ مدثر احمد جو گزشتہ سال لاپتہ ہو گیا تھا اس جھڑپ میں جا ں بحق ہو گیا جبکہ لا جوارہ پلوامہ کے ایک کنبے نے بھی اس بات کا دعویٰ کیا کہ ان کا لخت جگر جو گزشتہ سال لاپتہ ہو گیا کرناہ جھڑپ میں جاں بحق ہو گیاہے جس کی شناخت شیرازاحمد کے بطور ہوئی ۔دو نو ں خاندانو ں نے کپوارہ ضلع انتظامیہ اور پولیس سے رابطہ کر کے انہیں اپنے لخت جگرو ں کی نعشو ں کو حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا ۔جس کے بعد پولیس نے انہیں کرناہ پولیس تھانہ میں اپنے لخت جگروں کی نعشو ں کی پہچان کر نے کے لئے روانہ کیاجس کے بعد پولیس نے انہیں مکمل رپورٹ دی اور ضلع مجسٹریٹ کپوارہ سے قبر کشائی کے لئے رجو ع کیا ۔لواحقین کے مطابق ضلع مجسٹریٹ نے انہیں قبر کشائی کی اجازت دیکر ان کی جسد خاکی کو لواحقین کے حوالہ کرنے کا حکم دیا ۔منگل کی شام کو مارے گئے جنگجو کے لو احقین کرناہ پہنچ گئے جہا ں وہ مقامی انتظامیہ اور پولیس کی موجود گی میں قبر کشائی کی گئی ۔بتایا جاتا ہے مارے گئے جنگجوئو ں کو دو قبروں میں دفن کیا گیا تھا اور کولگام اور پلوامہ کے مدثر اور شیراز کی نعشو ں کو نکالنے میں کافی وقت لگ گیا ۔رات دیرگئے مدثر اور شیراز کی نعشو ں کو سب ضلع اسپتال ٹنگڈار لایا گیا جہا ں پر انہیں قانونی لوازمات اور ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے نمونے حاصل کر کے لواحقین کے حوالہ کیا گیا اور انہیں راتو ں رات کولگام اور پلوامہ کے لئے روانہ کیا گیا ۔ضلع مجسٹریٹ خالد جہانگیر نے اس بات کی تصدیق کی دونو ں مارے گئے جنگجو کی نعشو ں کو قبرو ں سے نکال کر لو احقین کے حوالہ کر دیا گیا ۔اس سے قبل مقامی جنگجوئوں کی جسد خاکی کے مطالبے پر کولگام اور پلوامہ میںاحتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ پاریگام کولگام میںمنگل کو لوگوں نے ٹنگڈار جھڑپ میں مارے گئے مقامی جنگجو کی جسد خاکی کو آبائی علاقے کولگام منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔منگل کی صبح پاری گام اور اس کے نواحی علاقوں کے لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور مقامی جنگجومدثر احمد بٹ کی جسد خاکی کو کولگام منتقل کرنے کا مطالبہ دہرایا۔مقامی لوگوں نے اس دوران اسلام آباد سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور کسی بھی گاڑی کو شاہراہ پر چلنے کی اجازت نہیں دی۔ اس بیچ علاقے میں منگل کو بھی تمام کاروباری ادارے بند رہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھا رکھے تھے جن پر جسد خاکی کی منتقلی کے نعرے درج تھے۔ دو گھنٹوں تک لگاتار جاری احتجاج کے بعد یہ جلوس پرامن طور پرمنتشر ہوا ۔یاد رہے کہ 26مئی کو کرناہ علاقے میں ایک جھڑپ میں پانچ جنگجو جاں بحق ہوئے جن کے تصاویر سوشل میڈیا پروائرل ہونے کے بعد جنوبی کشمیر کے لاجورہ پلوامہ اور کولگام کے دو کنبوں نے دعوی ٰکیا تھا کہ پانچ میں سے دو جنگجو انکے بیٹے ہیں اور اس سلسلے میں کپوارہ پولیس نے قبر کشائی کے لئے اقدامات عمل میں لائے اور ممکنہ طور پر جلد ہی ان کی قبر کشائی کی جائیگی ۔ ادھرپلوامہ میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زند گی بری طرح متاثررہی جبکہ ر اجپورہ چوک میں نوجوانوں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کا ایک واقعہ پیش آیا۔قصبہ پلوامہ میں پیر کودوسرے روز بھی کرناہ میں جاں بحق لاجورہ کے جنگجوئوںکے حق میںدوسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران بازار وںمیں معمول کا کام کاج متاثر رہنے کے علاوہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپوٹ غائب رہا۔منگل کے صبح کچھ نوجوان راجپورہ چوک کے نزیک نمودار ہوئے جہاں موجود فورسز اہلکاروں پر پتھراو کرنے لگے جس کے دوران نوجوانوں اور فورسز کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا جو کافی دیر تک جاری رہاتاہم علاقے میں کسی کے گرفتار یا ز زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔یاد رہے 26مئی کو کرناہ علاقے میں ایک جھڑپ میں پانچ جنگجو جاں بحق ہوئے جن کیتصاویر سوشل میڈیا وائرل ہونے کے بعد جنوبی کشمیر کے لاجورہ پلوامہ اور کولگام کے کنبوں کے دو کنبوں نے دعوی کیا تھا کہ پانچ میں سے دو جنگجوں انکے اپنے رشتہ دار ہیں۔ ادھر مارے گئے جنگجو مدثر احمد کے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے ان کی جسدکو واپس لٹانے کا مطالبہ دہراتے ہوئے پریس کالونی سرینگر میں منگل کو احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین نے حکومت پر لاش کو سپرد کرنے کے لوازمات میں تاخیر کا الزام عائد کرتے ہوئے مدثر کے جسد کو فوری طور ان کے اہل خانہ کو لوٹانے کا مطالبہ دہرایا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر’’ہم محض مدثر کی جسد خاکی چاہتے ہیں ‘‘کے نعرے درج تھے ۔معلوم رہے کہ جنوبی کشمیر ضلع کولگام کے پاریگام علاقے سے تعلق رکھنے والے مدثر پیشے سے ایک استاد تھے جو گورنمنٹ مڈل سکول فرسیل شیپورہ کولگام سے 17مارچ2017کو اچانک لاپتہ ہوگیا تھا ۔
ریل سروس معطل
محمد تسکین کے مطابق کاکہ پورہ، پلوامہ کے علاقے میں احتجاجی مظاہروں کے بعد منگل کی دوپہر بانہال ۔سرینگر ریل سروس کو معطل کردیا گیا اور بانہال سے بڈگام جانے والی ریل گاڑی کو اونتی پورہ ریلوے سٹیشن سے واپس بانہال کی طرف موڑ دیا گیا۔ ریل سروس کے اچانک بند ہونے کی وجہ سے جموں سے بانہال پہنچے سینکڑوں مسافر بانہال ریلوے سٹیشن پر درماندہ ہو کر رہ گئے اور بعد میں مسافروں نے سڑک کے ذریعے سفر طے کیا – ریلوے ذرائع نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کے بعد بانہال اور سرینگر کے درمیاں ریل سروس کو معطل کیا گیا اور بعد میں ایک حکم نامے کے زریعے منگل کی دوپہر بعد ریل سروس کو مکمل طور بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا –