جموں +راولپنڈی//وزیر اعظم کے مجوزہ دورہ ریاست سے ایک روز قبل بین الاقوامی سرحد پر آر پار بھاری شلنگ سے 9افراد ہلاک ہو گئے ، مہلوکین میں2 خواتین، تین بچے اور ایک بی ایس ایف اہلکار شامل ہیں جب کہ 22دیگر افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ادھرپاکستان نے بھارتی فوج کی ورکنگ باؤنڈری پر فائرنگ کے نتیجے میںایک خاتون اور اسکے تین بچوں کی ہلاکت پر بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو دفتر خارجہ طلب کرکے شدید احتجاج کیا۔
جموں
جمعہ علی الصبح سے پاکستانی رینجرز نے ضلع جموں سے لگتی بین الاقوامی سرحد پر بھاری گولہ باری شروع کر دی جو شام تک جاری تھی،تیسرے روز ہونے والی مسلسل گولہ باری سے سرحدی دیہات میں دہشت پھیل گئی ہے ۔ اس سے قبل فائرنگ کا دائرہ ہیرا نگر سے سانبہ تک محدود تھا لیکن جمعہ کے روز جموں ضلع میں بھی گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے آر ایس پورہ، بشناہ اور ارنیہ سیکٹر کو نشانہ بنایا گیا، انہوں نے کہا کہ بی ایس ایف کی جانب سے فائرنگ کا بھر پور جواب دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ جبوال کی ہر اول چوکی پر تعینات ایک بی ایس اہلکار گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گیا اسے جموں میڈیکل کالج منتقل کیا جا رہا تھا کہ اس نے راستہ میں ہی دم توڑ دیا۔ مہلوک کی شناخت 28سالہ کانسٹبل سیتا رام اپا دھیائے ساکن جھاڑ کھنڈ کے طور پر کی گئی ہے جو کہ بی ایس ایف کی 192ویں بٹالین کے ساتھ وابستہ تھا ۔ آر ایس پورہ اور ارنیہ سیکٹر میں میاں بیوی سمیت 4افراد ہلاک جب کہ 12دیگر شدید زخی ہو گئے ، مہلوکین میں 52سالہ ترسیم لال اس کی اہلیہ 47سالہ منجیت ساکنان چندو چک آر ایس پورہ، 60سالہ ست پال اور 45سالہ جگ موہن ساکنان تریوا ارنیہ شامل ہیں۔سائی، دیوی گرام ، نکوبل اور سچیت گڑھ میں ہونے والے زخمیوں میں بی ایس ایف کا ایک اے ایس آئی بھی شامل ہے ۔اس دوران دہشت زدہ لوگوں نے محفوظ مقامات کے لئے نقل مکانی شروع کر دی ہے ۔ انتظامیہ کی طرف سے متعدد مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کئے گئے ہیں جب کہ کئی ایک لوگوں کو بلٹ پروف بنکروں میں منتقل کیا گیا ہے ۔ سرحد سے 5کلو میٹر کے دائرہ میں پڑنے والے تمام اسکولوں کو تا حکم ثانی بند کر دیا گیا ہے ۔ ایس ڈی پی او آر ایس پورہ ساحل پراشر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ پولیس لوگوں کو محفوظ مقامات پر لے جانے اور زخمیوں کی منتقلی کیلئے بلٹ پروف گاڑیوں کا استعمال کر رہی ہے ۔ گزشتہ روز سے سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع میں سکوت بنا ہوا ہے اور جمعرات شام سے ان علاقوں میں فائرنگ کا کوئی بھی تازہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے ۔
پاکستان
پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج نے ورکنگ باؤنڈری پر بلا اشتعال فائرنگ کی جس کے نتیجے میںکلثومہ بیگم اور اس کے تین بچے مہوش، صفیہ اور حمزہ ہلاک ہوئے اور 10 زخمی ہوگئے۔دفترخارجہ نے بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ پر بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کرکے واقعے پر احتجاج کیا۔دفتر خارجہ کے مطابق قائم مقام سیکریٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ سے شدید احتجاج کیا اور احتجاجی مراسلہ ان کے حوالے کیا۔احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ چپڑار، ہرپال، پْکھلیاں اور شکر گڑھ سیکڑ میں بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا، بھارتی افواج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی اور شہری آبادی کونشانہ بنایا۔مراسلے مزید کہا گیا ہے کہ شہری آبادی کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے لہٰذا بھارت سیز فائر معاہدے کا احترام کرے۔احتجاجی مراسلے میں بھارت کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔