ماجد مجید، کشمیر یونیورسٹی
آںحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس کے بال مبارک نہ تو بہت گھونگھر یالے تھے اور نہ بہت سیدھے بلکہ دونوں کے بین بین تھے۔تھوڑی سی پیچیدگی لئے ہوئے تھے۔ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں (آپؐ کے بال مبارک کانوں کی لو سے کچھ بڑے اور شانوں سے کم تھے)۔حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور اکرمؐ کو دیکھا کہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی حجامت بنا رہا تھااور آپؐ کے صحابہ آپؐ کے گرد حلقہ باندھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو بھی بال گرے، وہ کسی نہ کسی کے ہاتھ میں ہو۔ جمرہ العقبہ پر کنکریاں مارنے کے بعد آپؐ نے اپنے سر مبارک کےبال منڈوائے اور ابو طلحہ انصاری کو عنایت کئے اور فرمایا کہ تمام بالوں کو لوگوں میں تقسیم کردو ۔ حضرت عثمان بن عبداللہ ؓفرماتے ہیں کہ میری بیوی نے مجھ کو ایک پانی کا پیالہ دے کر ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے پاس بھیج دیا کرتی ،کیونکہ اُن کے پاس حضور اکرم ؐ کا موئے مبارک تھا۔جس کو انہوں نے چاندی کی نلی میں رکھا ہوا تھااور پانی میں ڈال کر ہِلا دیتیں اور مریض وہ پانی پی لیتا اور اسے شفا ہوجاتی۔
حضرت خالد بن ولید فرماتے ہیں کہ خوش قسمتی سے حضور اکرم ؐ کی پیشانی مبارک کے بال میرے پاس تھے، میں نے اُن کو اپنی ٹوپی میں آگے کی طرف سی رکھا تھا، ان بالوں کی برکت سے عمر بھرجہاد میں فتح و نصرت حاصل ہوتی رہی۔جنگ یرموک میں حضرت خالد کا گھوڑا ٹھوکر کھاکر گِر گیا اور ٹوپی زمین پر جا پڑی ۔نسطور موقع پاکر آپ کی پشت پر آگیا اُس وقت حضرت خالد پکار پکار کر اپنے رفقاء سے فرما رہے تھے کہ میری ٹوپی مجھے دو، خدا تم پر رحم کرے۔ایک شخص دوڑ کر آیا اور ٹوپی آپ کو دی۔ آپ نے اسے پہن لیا اور نسطور کا مقابلہ کیا، یہاں تک کہ اُسے قتل کردیا۔لوگوں نے اس کے بعد پوچھا کہ دشمن پشت پر آپہنچا تھا اور آپ ٹوپی کی فکر میں لگ گئے۔حضرت خالد نے ٹوپی میں جڑے موئے مقدسؐ کے عظمت کے بیان دشمن سے فتح یاب ہونے کی علامت بیان کی۔ایک دفعہ حضرت خالد بن ولید تھوڑی سی فوج لیکرملک شام میں جبلہ بن ایہم کی قوم کے مقابلے کے لئے تشریف لے گئےاور ٹوپی گھر میں بھول گئے۔ مسلمانوں پر یکبارگی سخت حملہ ہوا، صحابہ کی حالت نازک ہوئی یہاں تک کہ رافع بن عمر طائی نے حضرت خالد سے کہا کہ ہماری قضا آگئی ۔حضرت خالد نے کہا (سچ کہتے ہو، وجہ یہ ہے کہ میں آج ٹوپی گھر بھول آیا ہوں جس میں حضور اکرم ؐ کے موئے مبارک ہیں ۔ اُسی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسلامی افواج کے امیر حضرت ابو عبیدہ کے خواب میں ملے اور فرمایا ،اُٹھو اور خالد بن ولید کی مدد کو پہنچو، کفار نے ان کو گھیر لیا۔حضرت ابو عبیدہ نے لشکر میں اعلان کروا دیا کہ فوراً تیار ہوجاؤ۔ چنانچہ لشکر اسلام فوراًتیار ہوکر بڑی تیزی سے چلے ۔راستے میں انہوں نے ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار کو دیکھا، اسلامی لشکر نے اُسے روکا اور پوچھنے پر معلوم کیا کہ خالد بن ولید کی بیوی ہے۔اس نے کہا ( اے امیر رات کو میں نے آپ کا اعلان سنا کہ خالد بن ولید دشمن کے گھیرے میں ہے ،مجھے یقین نہیں آیا کیونکہ ان کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک ہیں ۔پھر اچانک میری نظر اُن کی ٹوپی پر پڑی۔نہایت افسوس ہوا اور اسی وقت چل پڑی کہ کسی طرح اس ٹوپی کو ان تک پہنچا دوں۔ راوی کے مطابق جوں جوں موئے مقدس ؐ والی ٹوپی قریب قریب آرہی تھی، دشمنِ اسلام اُسی قدر پسپا ہورہا تھا۔ خالد بن ولید کو موئے مقدسؐ والی ٹوپی پہنتے ہی لشکر کفار پر فتح حاصل ہوگئی۔
[email protected]