ایس معشوق احمد
ایک مصنوعی شاعرہ، ادا نام کی، جو سارا دن یہ ثابت کرنے میں لگا دیتی ہے کہ وہ واقعی شاعرہ ہے۔ پچھلے ماہ سے دیکھ رہا ہوں کہ ادا پر خلقت فدا ہورہی ہے۔فیشن کی طرح ہم بھی بس شکل و صورت دیکھ کر ادا کی اداؤں پر مرمٹے لیکن کلیات کا مطالعہ کیا تو ان کی شاعری سنسان اور ویران لگی جیسے بنا شہزادی کے محل اور بنا پانی کے شہر۔مرزا صاحب نے ادا کو دیکھا تو ان کو وہ سراپا شاعری لگی چہرہ میرؔ کی غزل، آنکھیں غالبؔ کا کلام ، ہونٹ جیسے فراقؔ کی رباعی ، زلفیں داغؔ کی شاعری ۔۔۔۔فرمانے لگے میاں ادا کی قاتل ادائیں دیکھو جیسے مرشد یوسفی کاجملہ جو دل خوش کردے یا مجتبی حسین کا خاکہ کہ پڑھتے پڑھتے قاری جان وار دے۔ ہم نے جسارت کی اور مرزا سے کہا مرشد اگر اعلی کلام کی سند یہ ہے کہ کلام بے وزن ہو اور شاعرہ کے چہرے پربناؤ سنگھار کا وزن ہو تو ہم ایسی شاعرات کے کلام سے بے خبر ہی بھلے۔یہ سن کر مرزا کا ضمیر جاگا اور فرمانے لگے میاں واقعی ادا کا کلام پڑھنے کے لائق نہیں بلکہ اس کا چہرہ لائق مطالعہ ہے۔دن رات اس کا کتابی چہرہ پڑھتے رہو اکتاہٹ نہیں ہوگی اور نہ نیند آئے گی۔
ادا کی اداؤں پر ہی لوگ فدا نہیں ہوتے بلکہ اس کی حرکتوں سے بھی بعض کی حرکت قلب بند ہوجاتی ہے۔پچھلے دنوں کہنے لگی معشوق میاں میں دنیا کی بڑی شاعرہ ہوں۔میں نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔ دیکھا جائے تو ادا واقعی بڑی ہے یقین نہ آئے تو ان کے بڑی عمر کے عاشقوں کی بڑی تعداد کو دیکھ لو جو لگ بھگ ایک ہزار تک پہنچ چکی ہے۔اس شہزادی کے عشق میں مبتلا چھوٹے شہزادے بھی ہیں، وزیر زادے بھی، بادشاہ اور وزیر بھی ہیں اور امراء بھی۔ان کی اداؤں پر مرنے والے آپ کو دنیا کے ہر کونے میں ملیں گے۔ ابھی پچھلے دنوں نائیجریہ کے ایک صاحب نے ٹوٹی پھوٹی اردو میں لکھا کہ ادا کی آنکھوں تک میں مجھے شاعری نظر آتی ہے۔ مرزا نے سنا تو فرمانے لگے میاں جس کو اتنی دور سے کسی حسینہ کی آنکھوں میں شاعری نظر آئے اس کو سمندر میں اتارو موتی پاکر مالا مال ہوجاؤ گے۔جس شعر پر ادا کو داد ملی ملاحظہ ہو۔
آؤ کہ میں منتظر ہوں
سج سنور کر بال بناکر
شعر میں وہ کس کو کہاں آنے کا اشارہ کررہی ہے یہ کوئی ایسا معمہ نہیں جو سمجھ میں نہ آئے۔ خدشہ ہے کہ شعر پڑھ کر مختلف ملکوں کی سرحدوں پر عاشقوں کا ہجوم اُمڈ نہ آیا ہو۔انہیں شاعری سے غرض نہیں البتہ نیوتا پاکر وہ بس ادا کا سجا سنورا سراپا دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں۔ ۔مرزا نے شعر پڑھا تو فرمانے لگے میاں چالیس کی عمر میں پچاس عاشقوں کے باوجود جو کسی کی وائف نہیں وہ طوائف ہے۔
نیوتا پڑھ کر ہم نے بھی لبیک کہا اور مرزا کو ساتھ لے کر نکل کھڑے ہوئے فقط یہ دیکھنے کہ کوئی حسینہ سج سنور کر اور بال بنا کر کیسی لگتی ہے۔ادا کے گھر کا پتہ ڈھونڈنے میں ہمیں مشکل پیش نہ آئی کہ سارا شہر اس کے گھر کی طرف ہی جائے ہے۔ ادا ناز سے پلنگ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھی تھی جیسے مہارانی دن بھر کی الجھنوں سے فراغت پاکر سستانے بیٹھی ہو۔دلہن کی طرح ادا نے سنگھار کیا تھا اور اردگرد گرد ہجوم جن میں ہر ایک دیدارکو ترسے ہے۔افسانہ نگار ، ناقد ، کالم نگار اور شاعر بھی ادا کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب ہورہے تھے۔ایسا سماں تھا جیسے کسی نایاب شئے کی نمائش ہورہی ہو ۔ایک شاعر تو باقاعدہ توصیفی غزل لکھ کر لائے تھےجس کا مطلع یوں تھا۔۔
ان دنوں ادا کے چرچے ہیں
ہم بھی ادا پہ مرتے ہیں
شاعر صاحب نے دوسرا شعر پڑھنا شروع ہی کیا تھا کہ ایک ناقد نے ان کے گال پر زور دار طمانچہ مارا اور اپنا قول فیصل جاری کیا کہ” ادا شاعری اور دلوں کی ملکہ ہے جو شاعری لاجواب کرتی ہے اور اپنی جان لیوا اداؤں سے دلوں پر راج کرتی ہے۔ناقدین کے علاوہ کسی کو حق نہیں کہ وہ ان کی تعریف کرے۔”
اس محفل میں کچھ ہمارے جان پہچان کے ناقدین بھی تھے جب ہماری نظر ان پر پڑی تو انہوں نے اپنی نظریں جھکالیں اور کچھ بزرگوں کو دیکھ کر ہم پانی پانی ہوئے کہ ان کی نظروں میں ہم پارسا اور ہماری نظروں میں وہ نیک تھے۔ شرمندگی کا بھلا ہو جس نے ہمیں بھیڑ سے الگ کیا اور ہم ادا کا گھر دیکھنے لگے جو صاف ستھرا تھا۔ اس گھر میں ہمیں نہ مکھی نظر آئی اور نہ مچھر۔اسی اثناء میں مرزا جی ہمسائیوں کے گھر پانی پینے گئے۔ واپس آئے تو اپنی بیتی سنائی کہ چند منٹ میں پانی پینے کیا گیا پیاسے مچھروں نےمیرا ایک لیٹر کے قریب خون چوس لیا۔مرزا جی کی حالت دیکھ کر ہم حیران ہوئے اور پوچھا کہ یہاں تو ایک بھی مچھر نظر نہیں آتا ۔۔فرمانے لگے میاں کیسے نظر آئیں گے ادا کی بس ادائیں خوبصورت ہیں شاعری اور ترنم اتنا خراب اور بگڑا ہوا ہے کہ گھر میں کیڑے مکوڑے تک زندہ نہ رہے بلکہ مچھر سے لے کر مکھی تک نے اس کا کلام سننے کے بجائے اس میں عافیت سمجھی کہ تڑپ تڑپ کر اپنی جان دی جائے اور خراب شاعری سننے کے عذاب سے بچا جائے۔جو مچھر بہرے تھے وہ ہجرت کرکے ہمسائیوں کے گھر چلے گئے ہیں۔ ان کی یہ کارستانی ہے اور وہی میری حالت کے ذمہ دار ہیں۔ اس سے پہلے خراب کلام سن کر ہمیں داد دینی پڑے اور ہم گناہوں میں مبتلا ہوجائے خیریت اسی میں ہے کہ یہاں سے نکل کر اپنی سماعت کو خراب ہونے سے بچایا جائے۔
صاحبو! شاعری کی دیوی جن پر مہربان ہوتی ہے ان کو یہ گن بھی عطا کرتی ہے کہ وہ اپنے احساسات اور جذبات کو لفظوں سے ادا کرسکے۔ادا پر دیوی مہربان نہیں ہوئی سو انہیں اپنی اداؤں سے مردوں کومتاثر کرنے کے بجائے مطالعے اور مشاہدے سے دیوی کو خوش کرنا چاہیے تاکہ شاعرہ بن کر وہ تن کے بجائے فن سے لوگوں کو متاثر کرے۔۔مرزا کہتے ہیں کہ جس بے ہنر خاتون کو نام کمانے کی لت لگ گئی وہ عورت نہیں رہتی سراپا شہوت بن جاتی ہے۔
���
موبائل نمبر؛8493981240