سرینگر// حکومت ہند کومذاکراتی عمل میں ابہام دور کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے حکومت ہندسے کہا ہے کہ وہ غیر واضح اورمبہم بات کرنے کے بجائے واضح طور پر مسئلہ کشمیر کے دائمی تصفیہ کے لیے سہ فریقی مذاکرات کے لئے ماحول سازگار بنائے تو مزاحمتی قیادت ایسے سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونے میں دیر نہیں کرے گی۔ مزاحمتی قیادت جناب سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے حیدرپورہ سرینگر میں ایک غیر معمولی اجلاس میں ریاست جموں کشمیر کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے کئی روز سے بھارت کے مختلف ارباب اقتدار کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے مبہم اور غیر واضح بیانات داغنے میں سبقت لینے کی کوششیں کی گئیں ہیں۔مزاحمتی قیادت بھارت کے اربابِ اقتدار سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ ان کھلے تضادات کے ماحول میں مذاکرات کی آخر کونسی صورت باقی بچ پاتی ہے جس سے مسئلہ کشمیر کو حل کیا جاسکتا ہے۔ مزاحمتی قیادت مذاکرات برائے مذاکرات کی قائل نہیں ہے، بلکہ اپنے واضح موقف اور غیر مبہم طریق کار پر کاربند ہوتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔مشترکہ قیادت نے بھارت کی موجودہ برسرِ اقتدار قیادت کی طرف سے مذاکرات کے حوالے سے بانت بانت کی بولیاں بولنے کی بنیادی وجہ اُن کی طرف سے اگلے سال آنے والے پارلیمانی الیکشن میں اپنے ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی خاطر محض ایک چال قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی قیادت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر بھارت کی مذاکرات کی رٹ کو کس طرح سنجیدگی سے لیا جاسکتا ہے، جبکہ مذاکرات کے حوالے سے ان کے قول وفعل میں بھی ہمالیائی تضاد موجود ہے۔ایک سیاسی اور انسانی مسئلہ ہونے کی بناء پر مشترکہ مزاحمتی قیادت یہ محسوس کرتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا بھارتی نکتہ نظر کے مطابق فوجی حل قابل قبول نہیں ہوسکتا، البتہ اس کا سیاسی اور دائمی حل تلاش کرنے کے لیے بھارت، پاکستان اور کشمیری قیادت کو ایک ہی میز پر آنے کی سخت ترین ضرورت ہے جس کے لیے مزاحمتی قیادت ہمیشہ تیار ہے۔ مزاحمتی قیادت یہ بھی محسوس کرتی ہے کہ چونکہ ریاست اس وقت دو حصوں میں منقسم ہے، لہٰذا مسئلہ کشمیر کے تینوں فریقوں میں سے ایک فریق کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ ایسے دوطرفہ مزاکرات آج تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے ہیں۔ مزاحمتی قیادت حکومت ہند کو یہ مشورہ دینا مناسب سمجھتی ہے کہ مزاکرات کے حوالے سے بانت بانت کی بولیوں اور مبہم آمیز لب ولہجے میں بات کرنے کے بجائے واضح طور پر مسئلہ کشمیر کے دائمی تصفیہ کے لیے سہ فریقی مزاکرات کے لیے ماحول کو سازگار بنائے جائے تو مزاحمتی قیادت ایسے سنجیدہ مذاکرات میں شامل ہونے میں دیر نہیں کرے گی۔ بھارت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ایک ہی سانس میں حریت اور پاکستان سے مذاکرات کی ڈفلی بجاتے ہوئے کشمیر ہمارا اور کشمیری ہمارے اپنے ہیں، کی راگ الاپنے میں کوئی دیر نہیں کی۔ بھارت کی وزیرِ خارجہ ششما سوراج نے مذاکرات کو پاکستان کی طرف سے بقول اُن کے دہشت گردی بند کرنے سے مشروط کردیا، بی جے پی کے صدر امیت شاہ کا فرمان ہے کہ بھارت کی طرف سے رمضان جنگ بندی صرف لوگوں کے لیے ہے نہ کہ عسکریت پسندوں کے لیے، جبکہ پولیس انتظامیہ کے ڈائریکٹر جنرل یہ نوید سنارہے ہیں کہ جنگ بندی عسکریت پسندوں کی گھر واپسی کے لئے ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ دورۂ کشمیر کے موقعے پر مسئلہ کشمیر کو امن اور ترقی کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے تاریخی تناظر کو نظرانداز کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس نام نہاد امن کو قائم ودائم رکھنے کے لیے ریاست کو لاکھوں کی تعداد میں بھارت کی افواج کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یہاں کے لوگوں کی زندگی جہنم زار بنی ہوئی ہے۔ مزاحمتی قیادت نے ریاست کی موجودہ گھمبیر صورتحال میں بھارتی وزیر اعظم کے نعرۂ امن وترقی کو ایک مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم کا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اختیار کردہ موقف بھی اس کے اپنے وزیر داخلہ، وزیر خارجہ یا بی جے پی صدر امیت شاہ کے موقف کے ساتھ میل نہیں کھاتا ہے۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کو اپنی قوم کی عظیم قربانیوں کا انتہائی شدت کے ساتھ احساس ہے کہ اس قوم کو پچھلے 70برسوں سے بھارت کے قابض استبدادی قوتوں سے بہت مار کھانی پڑی ہے، لہٰذا مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل کے لیے ان کے دلوں کے اندر ایک انمٹ تڑپ موجود ہے۔