نیوز ڈیسک
جموں//گزشتہ سال اپنے کچھ ساتھیوں کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد کشمیر سے فرار ہونے والے ریزروڈ زمرے کے ملازمین نے جمعہ کو وادی سے دور منتقلی وتعیناتی کیلئے جاری اپنی290 روزہ ہڑتال کو معطل کرنے کا اعلان کیا۔تفصیلات کے مطابق ریزروڈ کیٹیگری ایمپلائیز ایسوسی ایشن کی صدر انجنا بالا نے جموں میں کہا کہ ہڑتال کو معطل کرنے کا فیصلہ 10 رکنی رابطہ کمیٹی نے گزشتہ2 ہفتوں کے دوران لیفٹیننٹ گورنر کی زیر قیادت انتظامیہ کے ساتھ کئی دور کی بات چیت کے بعد کیا گیا۔ ریزروڈ زمرے کے ملازمین نے طویل ہڑتال کو معطل کرنے کا فیصلہ وزیر اعظم پیکیج کے تحت وادی میں کام کرنے والے کشمیری پنڈتوں کی جانب سے اپنی 310روزہ ایجی ٹیشن کو معطل کرنے کا اعلان کرنے کے ایک 15دن بعد کیا ہے۔ ان میں سے اکثریت نے پہلے ہی کشمیر میں اپنی ڈیوٹی دوبارہ شروع کر دی ہے۔ریزرو کڈزمرے کے سینکڑوں ملازمین جن کا تعلق جموں صوبے سے ہے اور وادی میں مہاجر کشمیری پنڈت ملازمین گزشتہ سال مئی کے مہینے میں مشتبہ ملی ٹنٹوںکے ہاتھوں رجنی بالا اور راہول بٹ کی ہلاکت کے بعد کشمیر سے چلے گئے تھے،اورانہوںنے جموںمیں ہڑتال شروع کردی تھی۔راہول بٹ کو12 مئی 2022کو وسطی کشمیر کے بڈگام میں ان کے دفتر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا،جبکہ ا سکول ٹیچر رجنی بالا کو 31 مئی2022 کو جنوبی کشمیر کے کولگام میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ریزروڈ کیٹیگری ایمپلائیز ایسوسی ایشن کی صدر انجنابالا نے کہاکہ3500 ریزرو کیٹیگری کے زیادہ تر ملازمین نے پہلے ہی وادی میں15 سال سے زیادہ عرصے سے خدمات انجام دی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ہمارے سیکورٹی خدشات کو دور کرنے اور مناسب رہائش کے ساتھ ساتھ ایک ٹرانسفر پالیسی لے کر آئے۔انہوں نے کہا کہ تنظیم نے انتظامیہ کی اس یقین دہانی پر فی الحال احتجاج کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ ان کے تمام مسائل کو مقررہ وقت میں حل کیا جائے گا۔کلدیپ کمار نے مزیدکہاکہ انتظامیہ کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ مثبت نتیجہ نکلے گا۔انہوںنے کہاکہ اگلے لائحہ عمل کا انحصار مذاکرات کے نتائج پر ہے۔
مخصوص زمرے کے ملازمین کی 290 روزہ ہڑتال معطل | کشمیر میں ڈیوٹی جوائن کرینگے