سرینگر//حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے حریت پسند قیدیوں کی حالت زار پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس امر پر گہرے صدمے اور دُکھ کا اظہار کیا کہ بھارت حریت پسند محبوسین کے ساتھ سیاسی انتقام گیری اور غیر انسانی سلوک روا رکھ رہا ہے۔ حریت رہنما نے انسانی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ظالم سے ظالم اور بدترین جابر حکمرانوں نے بھی اپنے دورِ اقتدار میں قیدیوں کے مذہبی تہوار پر ان کو رہا کرنے سے گریز نہیں کیا ہے۔ انہوںنے ریاست جموں کشمیر کے اندر اور بھارت کے جیل خانوں میں ریاست کے اسیران زندان کے ساتھ ظالم اور بے رحم انتظامیہ کی طرف سے ظلم وتشدد کے حوالے سے رونگٹے کھڑے کئے جانے کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔حریت رہنما نے عزیمت کا راستہ اختیار کرنے والے جملہ حریت پسند محبوسین کی مثالی قربانیوں کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے اپنی قوم کے حریت پسند اصحاب ثروت سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عیدالفطر کے مبارک موقعے پر ہمیں اپنے شہداء کی حاجت مند بیواؤں، بچوں اور والدین ودیگر مستحقین کے علاوہ اپنے قیدیوں کے آل وعیال اور لواحقین کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ گیلانینے جرم بے گناہی کی پاداش میں عمر قید کاٹنے والے عظیم المرتبت قیدیوں داکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، طارق احمد، منظور احمد، تہاڑ جیل میں ایام اسیری گزارنے والے حریت کے سینئر راہنما شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، پیر سیف اللہ، ایاز اکبر، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، شاہد یوسف، فاروق احمد ڈار، محمد اسلم وانی، ظہور احمد وٹالی، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، مظفر احمد ڈاربنگلور سینٹرل جیل میں محبوس بلال احمد کوٹہ، کوٹ بلوال جیل میں نظربند مسرت عالم بٹ، غلام محمد خان سوپوری، محمد ایوب ڈار، محمد ایوب میر، حکیم شوکت، اسداللہ پرے، شوکت احمد خان، محمد رمضان خان، فاروق توحیدی وغیرہ، جودھپور راجھستان کے سینٹرل جیل میں ایام اسیری گزارنے والے علی محمد بٹ، مرزا نثار حسین، لطیف احمد وازہ، عبدالغنی گونی کے علاوہ دیگر جیلوں میں نظربند محمد یوسف میر، محمد یوسف فلاحی، امیرِ حمزہ شاہ، میر حفیظ اللہ، شکیل احمد بٹ، عبدالغنی بٹ، محمد سبحان وانی وغیرہ کی طرف حقِ خود ارادیت کی تحریک کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے عزم راسخ کو خراج تحسین ادا کیا۔ حریت رہنما نے آزادی پسندوں کو جیلوں میں نظربند رکھے جانے کی فسطائی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان بزدلانہ ہتھکنڈوں سے ان کے عزم صمیم میں کوئی فرق واقع نہیں آسکتی۔ حریت راہنما نے تہاڑ کے بدنامِ زمانہ جیل خانہ سے رہائی پانے والے محبوسین محمد صدیق گنائی، فاروق احمد ڈگہ اور غلام جیلانی لِلو کی طرف سے تہاڑ جیل میں نظربند کشمیری حریت پسندوں کے ساتھ جیل حکام کا متعصبانہ سلوک روا رکھے جانے کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ فاروق احمد ڈگہ کی روداد ستم اور سات برسوں میں ان کے آٹھ دانت نکالے جانے کو ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ، عالمی ریڈکراس اور اقوامِ متحدہ کے ہیومن رائٹس ڈویژن کے لیے چشم کُشا ہونا چاہیے اور جموں کشمیر کے جملہ حریت پسندوں کی حالت زار کا از خود مشاہدہ کرنے کے لیے درج بالا انسانی حقوق کی تنظیموں کو ان عقوبت خانوں اور جہنم نما اور جیل خانوں کا از خود مشاہدہ کرنا چاہیے اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر روک لگانے کے حوالے سے بھارت پر اپنا سفارتی اور سیاسی دباؤ بڑھانا چاہیے۔حریت راہنما نے نواکدل سرینگر کے جوان سال پیرزادہ محمد وسیم کے گھر پر آئے روز پولیس چھاپوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وسیم احمد کے خلاف سنگ بازی کے جُرم میں کئی بے بنیاد FIRدرج کئے ہیں اور انہیں خوامخواہ کسی قتل کیس میں ملوث کرنے کی پولیس کارروائی کا انصاف اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور پولیس انتظامیہ کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوان نسل کو پُشت بہ دیوار کئے جانے کے مظالم سے اجتناب کرنا چاہئے اور نوجوانوں کو بے بنیاد کیسوں میں ملوث کرانے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ حریت راہنما نے یمبرزل واری سوپور میں مقامی آرمی کیمپ کی طرف سے بستی کے لوگوں کو ظلم وستم اور خوف وہراس پھیلانے کی ظالمانہ کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کیمپوں کو بستی کے لوگوں کے ظلم وستم اور شبانہ چھاپوں کے دوران خوف وہراس پھیلانے اور خانہ تلاشیاں کرنے کے بہانے ڈھونڈ کر تختہ مشق بنائے جانے کی کارروائیوں کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں