ذرا غور کریں کہ ہماری زندگی سے اگر رشتے نکل جائیںاور ان رشتوں سے جڑے لفظ معدوم ہوجائیں تو زندگی کس قدر کھوکھلی،بد مزہ اورادھوری رہ جائے گی، کیونکہ رشتوں سے جڑےلفظوں کا ذائقہ بھی ہوتا ہے اور احساس بھی۔ کچھ لفظ میٹھے ہوتے ہیں، کچھ کڑوے، کچھ پُرتاثیر اور کچھ الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ہمیں اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ ایسے ہی پُرتاثیر لفظوں میں ایک لفظ ہے ’’ماں‘‘ جسے سنتے ہی ہم محبت کے حصار میں بندھ جاتے ہیں اور ایک جاندار لفظ ہے ’’باپ‘‘جس کی رہنمائی، شفقت اور محبت کےبغیر ہماری ذات تو ذرۂ بے نشان کی مانند ہوتی ہے۔بے شک باپ کا رشتہ عظیم نعمت ِ خداوندی ہے۔ زندگی کے تپتے صحرا اور نفسانفسی کے دور میں ماں کے بعد باپ ہی وہ ہستی ہے جو اپنی اولاد کی معمولی سی تکلیف پر پریشان اور بے چین ہو جاتی ہے۔ بظاہر رُعب اور دبدبے والی اس ہستی کے پیچھے ایک شفیق اور مہربان چہرہ ہوتا ہے ،جسے ماں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنا نہیں آتا،مگر زمانے کے سرد و گرم برداشت کرتے ہوئے مسلسل ایک مشین کی طرح کام کئے جاتا ہے تاکہ اس کے اولاد کو کوئی تکلیف نہ پہنچےاور انہیں کسی چیز کی کمی یا حسرت نہ رہے۔ شاید ہر باپ اپنے آپ کو بہت مضبوط ثابت کرنے کے لئے اپنے اوپر ایک رعب اور سختی کا خول چڑھائے رکھتاہے، جبکہ اپنے اندر پیار، محبت، ایثار، شفقت اور تحفظ چھپائے رکھتا ہے۔یہی وہ عظیم شخصیت ہے جو اولاد کے سکھ، خوش حالی، تعلیم، صحت اور روشن مستقبل کی خاطر سخت محنت کرتے زندگی گزار دیتا ہے۔ خود اپنی ذات سے غافل ہوکر اپنی ہر ضرورت بھول کراپنی اولاد کی ہر خواہش اور فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اپنی اولاد کو بچپن میں ہوا میں اُچھالتا ہے تو بچے خوف سے رونے کے بجائے قلقاریاں مارتے ہیں کیونکہ بچوں کو یقین ہوتا ہے کہ باپ کے توانا بازو انہیں سنبھال لیں گے، گرنے نہیں دیں گے۔ یقیناً یہ تحفظ میں جکڑنے والے بازو والدین کے ہوتے ہیں۔ جنہوں نےبچوں کےننھے ننھے ہاتھ تھام کر یوں چلنا سکھایا کہ اُنہیںزندگی میں اعتماد سے چلنے کا حوصلہ مل گیا۔ظاہر ہے کہ بچوں کے باپ ، وہ بے غرض اے ٹی ایم مشین ہیں جہاں سے بغیر کچھ پیسہ جمع کروائے کاغذ کے ٹکڑوں کی شکل میں صرف نوٹ ہی نہیں بلکہ محبت اور چاہت کے کھنکتے ہوئے سکے بھی بچوں کو حاصل ہوتے ہیں۔مگر موجودہ دور میں یہ دیکھ کردل غمگین ہو جاتا ہے جب وہ باپ جس نے بچوں کی آسودہ حال زندگی کی خاطر اپنے جسم کا کندن راکھ کیا ہوتا ہے، جس کے سیاہ بالوں پر گزرے وقت کی ڈھیروں برف جمی ہوتی ہے۔اُس کے وہ ننھے بچے ذرا سا اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگتے ہیں اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو اپنے بوڑھے ہوتے ہوئے باپ کو آئوٹ آف فیشن سمجھتے ہیںاور اُس کی باتوں پر کوئی عمل نہیں کرتے ہیں بلکہ دھتکارتے رہتے ہیںکہ ابا آپ کو کچھ پتہ نہیں ہے،اوراُس کی تمام عمر کی ریاضت کو مادی اشیاء کے میزان میں تولتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے؟محض اس لئےاُس کی نوجوان اولاد یہ چاہتی ہے کہ اُسے روک ٹوک کرکے اس کی آزادی سلب کرنے کی کوشش نہ کی جائے، کیونکہ باپ کی سرپرستی اُسے اپنی آزادی کا قتل محسوس ہوتی ہےاور اسی وجہ سے آج کی نوجوان نسل کی طرف سےاپنے والدین سے بدسلوکی کے واقعات بڑھتے جارہےہیںجبکہ میڈیا پر بھی اکثر والدین پر تشدد کے شرمناک واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔نوجوان نسل یہ بھول جاتی ہےوالد کی محبت اولاد کے لئے ہمیشہ بے لوث ہوتی ہے۔ وہ اپنی ریاضت اور محبت کے بدلے کچھ پانے کی اُمید نہیں رکھتا۔ تاہم اس بوڑھے باپ کا دل ہمیشہ اس خواہش کے ساتھ دھڑکتا ہے کہ اس کی اولاد اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر اس کے قریب بیٹھے۔ اُس سے باتیں کریں،اُس کا حال چال پوچھے۔مگر افسوس! نفسانسی کے اس دور میں اکثر اولاد اپنی مصروفیات میں جہاںخود کو ہی بھول بیٹھے ہیں، وہیںانہیں اپنے اردگرد کے ماحول کابھی ہوش نہیں رہتا۔ جس کے نتیجے میںوہ گھر والوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں جن میں اُن کے والدین بھی شامل ہیں۔ باپ کی عظمت، محبت اور شفقت کو جان لینا ہی تجدید وفا ہے۔ہماری نوجوان نسل کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنےوالد کے ساتھ پیار محبت خلوص اور خدمت کا جذبہ اپنائیں تاکہ ان کی محبت و شفقت کا کچھ صلہ اُنہیں مل سکے۔