ماں کی محبت و ممتا عالم میں ایک مثال ہے،ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے،جس کی گہرائی کو آج تک کوئی ناپ نہ سکانہ ناپ سکے گا۔ماں کی محبت وہ ہمالیہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلند یوں کو کوئی آج تک چھو نہ سکانہ چھو سکے گا۔ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ماںتو اولاد پر قربان ہوجایا کرتی ہیں،اور یہ صرف انسانوں میں نہیں بلکہ پرندوں میںبھی دیکھ لیجئے،چڑیا ایک ننھی سی جان ہے،گرمی کے موسم میں اڑکر جاتی ہے،اور پسینہ پسینہ ہوجاتی ہے مگر چونچ میں پانی لاکر اپنے بچوں کو پلاتی ہے،اس کے اپنے چونچ میں پانی ہے اور وہ پیاسی بھی ہے مگر خود نہیں پیتی کہ اس کے بچے پیاسے ہیں،چھوٹی سی جان میں دیکھئے بچوں کی کتنی محبت ہے،ایک صحابی کا واقعہ ہے کہ وہ نبی کریم ـؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے جا رہے تھے،کہ ایک درخت پرانہوں نے ایک گھونسلہ دیکھاجس میں چڑیا کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے،چڑیا کہیں گئی ہوئی تھی ان کو وہ پیارے لگے،اس لئے انہوں نے بچے کو اٹھا لیا۔ذرا دیر میں ماں چڑیا بھی آگئی،بچے کوہاتھ میں دیکھ کراس صحابیؓ کے سر پر چہچہانا شروع کردیا۔وہ ان کے سر پر اڑتی رہی ،چہچہا تی رہی،وہ صحابی ؓ سمجھ نہ پائے،بالآخر تھک کر چڑیا ان کے کندھے پر بیٹھ گئی۔انہوں نے اس کو بھی پکڑ لیا۔اور نبی ؐ کی خد مت میں آکر پیش کیا۔اور کہااے نبی ؐ ! یہ بچے کتنے پیارے اور خوبصورت ہیںاور سارا واقعہ بھی سنایا۔نبی ؐنے بات سمجھائی کہ ماں کے دل میں بچے کی اتنی محبت تھی کہ پہلے تو یہ تمہارے سر پر اڑ تی رہی اور یہ فریاد کرتی رہی کہ میرے بچے کو آزاد کردو،میں ان کی ماں ہوں۔مجھے میرے بچے سے جدا نہ کرو۔مگر آپ سمجھ نہ سکے،تو اس ننھی سی ماں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں بچے کے بغیر تو نہیں رہ سکتی،میں اپنے بچے سے الگ آزاد رہ کر کیا کروںگی،اس لئے تمہارے کندھے پر آکر بیٹھ گئی،کہ اگر چہ میں قید ہوجاوَںگی،مگر بچے کے ساتھ تو رہوںگی۔اس کے بعد نبی ؐ نے ارشاد فرمایا کہ ان کو واپس اپنی جگہ چھوڑ آوَ۔آپ نے مرغی کو تو دیکھا ہوگا۔چھوٹے چھوٹے بچے ہوتے ہیں ،اگر کبھی بلی قریب آنے لگے،تو یہ مرغی ان بچوں کو اپنے پیچھے کر لیتی ہے،اور بلی کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوجاتی ہے،مرغی کو پتہ ہے کہ میں بلّی کا مقابلہ نہیں کر سکتی،مگر اس کو یہ بھی پتہ کہ میں اپنے آنکھوں کے سامنے بچوں کو بلی کا لقمہ بننے نہیں دے سکتی۔اس کی محبت برداشت نہیں کرتی،اس کی مامتا برداشت نہیں کر سکتی،وہ سمجھتی ہے کہ بلی پہلے میرا جان لے گی،اور میرے بعد میرے بچوں کو ہاتھ لگا ئے گی،ماں کے دل کی محبت کا اندازہ لگایئے۔جبکہ یہ ایک پرندہ ہے،تو انسان کا کیا حال ہوگا۔اک ماں کے دل میں بچے کی کتنی محبت ہوتی ہے اسکا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔جوان بچیاں اس بات کو نہیں سمجھ سکتیں،جب تک وہ زندگی کے اس حصے تک نہ پہنچ جائیں۔اللہ رب العزت نے ماں کے دل میں ودیعت کردی، کیوں کہ اسکو بچے کی پرور ش کر نی تھی ،اسے بچوں کوپالنا تھا۔ماں کے دل میں ایسی محبت ہوتی ہے کہ بچوں کو ہرمعا ملہ اپنے اوپر ترجیح دیتی ہے،ایک لڑکی جس کی شاد ی کو چند سال ہوگئے اولادنہیں ہو رہی ہے،اپنے گھرمیں غمگین مصلے پہ رو رہی ہوگی،دعائیں مانگے گی۔اے اللہ !مجھے اولاد عطا فرمادے،اگر کوئی اس لڑکی سے پوچھے کہ تمہیں اللہ نے حسن و جمال عطا فرمایاہے،اچھی تعلیم عطا کئے، مال و دولت کے ڈھیڑ عطا کئے،دنیا کی عزتیں عطا کیں،ہر نعمت تمہارے پاس موجود ہے،پھر بھی کیوں پریشان ہو،وہ جواب دیگی ایک نعمت ایسی ہے جو سب سے بڑی ہے،میں اللہ سے وہ مانگ رہی ہوں ،یہ حج کو جائے گی تو طواف کعبہ کے بعد اولادکی دعائیں کرے گی۔مقام ابراہیم پر سجدہ کرے گی تو اولاد ہی کی دعائیں کرے گی،غلاف کعبہ کو پکڑے گی تو اولاد کی دعائیں کرے گی،تہجد کی نماز پڑھے گی تو اولاد کی دعائیں کریگی۔کبھی لیلۃ القدر میں جاگنا نصیب ہواتو اولادکی ہی دعا ئیں کریگی،آخر یہ اولادکیسی نعمت ہے جس کی وجہ سے مغموم ہے، پریشان ہے،حالانکہ وہ ماں (لڑکی) جانتی ہے کہ جب میں ماں بننے لگوںگی تو نو مہینے کا عرصہ میری بیماری میں گزرے گا۔نہ میرا دل کچھ کھانے کو چاہے گا،اور نہ کچھ پینے کو،اسے یہ بھی پتہ ہوتا ہے کہ جب ماں بنوںگی تو دو سالوں کے لئے مجھے سونے کا موقع نہیں ملے گامیں سارا دن بچے کا کام کرونگی،مگر پھر بھی اپنے اولاد کے لئے ہر مصیبت اٹھانے کو تیار رہتی ہے،اور جب بچے کی ولادت ہوجاتی ہے تو وہ اہنے آپ کو بھول جاتی ہے،اگر ہر وقت کچھ ہے تو بس بچے کی فکر ہے،کبھی اسے پلا رہی ہے،کبھی اسے سلا رہی ہے،کبھی پہنا رہی ہے ،کبھی بہلا رہی ہے،ہر وقت سوچ ہے تو بچے کے بارے میں ،ہر وقت فکر ہے تو بس بچے کے بارے میں ،بچے کو خوش دیکھ کر یہ خوش ہوجاتی ہے،اور بچے کو دکھی دیکھ کر یہ غم زدہ ہوجاتی ہے،بچہ کی ولادت ہوگئی تو اب محبت کا پیمانہ بھی بدل گیا،اس طرح کے اگر کوئی اسکا قریبی رشتہ دار بچے کو پیار نہ کرے اسکو بھی اپنا غیر سمجھنے لگ جاتی ہے،اور اگر کوئی غیر اس کے بچے سے بچے سے محبت اظہار کرے تو اسے ہی اپنا سمجھنے لگتی ہے بچے کی جدائی اس سے برداشت نہیں ہو سکتی،جب بچہ ماں کے گود میں آجاتا ہے توسمجھتی ہے کہ ساری دنیا کی خوشی میری گود میں آگئی،یہ کیا چیز ہے؟یہ بچے کی محبت ہے جو اللہ نے اس کے د ل میں ڈال د ی ۔پہلے بچے کو کھلاتی ہے پھر خود کھاتی ہے،پہلے بچے کو پلاتی ہے پھر خود پیتی ہے،پہلے بچے کو سلاتی ہے پھر خود سوتی ہے،سارا دن اسنے کام کیاتھکی ہوئی تھی،آنکھیں نیند سے بھری ہوئی تھیں،جیسے ہی لیتی بچے نے رونا شروع کردیا اسی وقت یہ بچے کو اٹھاکے بیٹھ جائے گیاپنے آرام کو قربان کردیگی،اگر بچے کو اس کے گود ہی میں نیند آگئی تو وہیں بیٹھی رہے گی ذرا بھی حر کت نہیں کرے گی دل میں یہ آئے گا کہ میرا بچہ نہ کہیں جاگ جائے،یہ خود بھی تھکی ہوئی تھی مگر پھر بھی جاگ رہی ہے کیوں کہ بچے کا جاگنا اس کو گوارہ نہیں،یہ ہے ماں کی محبت و ممتا ایک اولاد کے لئے۔اور اولاد جب بڑا ہوتا ہے،ہوش و عقل والا ہوتا ہے،تو ماں اس سے بہت ساری ارمانیں باندھے بچے کو گلے لگاتی ہے ،اور سوچتی ہے کہ میں نے اپنے بچے کو بڑے لاڈ سے پالا اور بڑا کیا ہے،اب بڑھاپے میں میری کام آئے گا،مگر بیٹا جب بڑا ہوتا ہے تو اپنی پیاری ماں سے رو گردانی کرنے لگتا ہے،اس وقت ماں کو اتنی تکلیف ہوتی ہے کہ ماں اگر خدا کے حضور میں فریاد کردے تو بیٹا جل کر خاک ہوجائے ، اور اسکی ہستی ختم ہوجائے،مگر پھر بھی ماںہے کہ اولاد کے لئے خدا سے خوشی کی بھیک ہی مانگتی نظر آتی ہے،ماں کی محبت و پیار کا اندازہ اس سچی اور سبق آموز کہانی سے لگایئے کہ ایک نو جوان کی شادی ہوئی اسکو بیوی سے بہت پیار تھا،مگر بیوی طبیعت کے اعتبار سے کام چور تھی،وہ اپنے شوہرکے ماں باپکی خدمت کو بوجھ سمجھتی تھی،کچھ عرصے بعد جب اس نے دیکھی کہ خاوند مجھ سے بہت پیار و محبت کرنے لگا تووہ اپنے شوہر سے تھوڑی ناراض ناراض سی رہنے لگی،شوہر کو دیکھتے دیکھتے نہ برداشت ہوا تو اس نے ایک دن پوچھا کہ کیا بات ہے ؟تم اداس اداس سی رہتی ہو؟کہنے لگی میں تمہارے ساتھ ٹھیک رہوںگی،جب تم یہاں سے مجھے میرے گھر واپس لے چلو،اورمیرے ساتھ وہیں رہو،میں آپ کے ساتھ تو خوش رہ سکتی ہوں مگر اس گھر میں ان بوڑھوں کی خدمت کرنا پڑتا ہے،یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔وہ نو جوان ایسا تھا کہ اس نے بیوی کی بات مان لیا۔بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر بالآخر دوسرے شہر میں جاکر گھر لے لیا،ماں باپ نے بہت سمجھایا کہ بیٹا تیرے سوا ہمارا کوئی نہیںمگر بچے کے کان میں جوں تک نہ رینگی،وہ اپنے بیوی کیساتھ دوسرے شہرمیں عیس آرام کے ساتھ زندگی گزارتا رہا،بالآخر اس کو سعودی عرب میں ایک اچھا کام (نوکری)لگ گئی،اور وہاں جانے کا موقع مل گیا۔وہاں جانے کے بعد پیسے کی آمدنی زیادہ ہوگئی اس لئے بیوی کو ایک شاندارمکان بنا کر دے دیا،سارا خرچہ بیوی کیلئے بھیجتا،اپنے ماں باپ سے اس نے کوئی رابطہ نہ رکھا،بیوی کہتی تھی کہ اگر اس سے رابطہ کروگے تو میں تم سے رشتہ توڑ لوں گی۔محبت کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس نے یہ کرتوت کرلیا کہاپنے ماں باپ کو اس نے نظر انداز کردیا،کئی سال گزر گئے ایک مرتبہ یہ طواف کر رہا تھا ،اس کے ساتھ ایک بزرگ بھی طواف کر رہے تھے ،طواف کے بعد وہ اس بزرگ کے پاس آیا ،اور کہنے لگا:میں جب سے آیا ہوں بارہ سال میں میں نے بارہ حج کئے، سینکڑوںعمرے کئے،مگر میرے دل پر کوئی تالا لگا ہوا ہے،میرے دل پر ظلمت ہے،نہ عبادت کو جی چاہتا ہے،اورنہ کسی نیک کام کرنیکو،معلوم نہیں ایسا کیوں ہو رہا ہے۔اس بزرگ نے پوچھا کہ تم نے کسی کا دل تو نہیں دکھایا؟کسی کو دکھ تو نہیں دہا؟تب اسکو ماں باپ کی فورا یاد آگئی،اور کہنے لگا ہاں!میں بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر یہاں آیا اور سمجھاکہ میرے حج اور عمروں سے میرا سارا گناہ دھل جائیگا۔انہوں نے کہ مزید حج کرنے کی ضرورت نہیں،جاو‘ اور اپنے ماں باپ سے پہلے معافی مانگو۔چنانچہ جلدی میں ٹکٹ بنواکر یہ اپنے ملک واپس آیا،اور سب سے پہلے اپنے ماں باپ کے گاو‘ں میں گیا،بارہ سال گزر چکے تھے،کچھ پتہ نہیں تھا کہ اسکے ما ں باپ کے ساتھ کیا گزری،جاتے ہو ئے ،بستی کے کنارے پر ایک آدمی ملا،اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے ماں باپ کے بارے میں پوچھا،اس نے اس لڑکے کو نہ پہچانا کہ یہ اسی کا بیٹا ہے،اور اس سے یہ بتانا شروع کیا کہ اسکا تو ایک جوان بیٹا تھاجو ان کو چھوڑ کر بیوی کے لئے چلا گیا،وہ میاں بیوی بوڑھے تھے بہت تنگی کی زندگی انہوں نے گزاری،بالآخر ایک وقت آیا کہ خاوند بھی فوت ہوگیااب ماں اکیلے رہ گئی ،وہ بیچاری گھرمیں اکیلی،پڑوسیوں نے کبھی ترس کھایا تو ایک روٹی بھیج دی،اور کبھی نہ بھیجی تو وہ بیچاری ماں اللہ کا شکریہ ادا کرلی،پھر اس عورت کوفا لج مار دیا،اب سنا ہے کہ چند دنوں سے اسکی آنکھوں کی بینائی بھی چلی گئی ہے،بوڑھاپے کی وجہ سے نا بینا ہوگئی ہے،فالج زدہ ،لیکن پتہ نہیں کوئی بات ہے کہ اکثر دعائیں مانگتی رہتی ہے،اورکسی کو یاد کرتی رہتی ہے،یہ اپنے گھر میں گیا،دروازہ کھول کر ماں بستر پر لیٹی ہوئی تھی،با لکل ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکی تھی،یہ سوچ رہا تھاکہ میں نے ماں کو اتنا ستایا،یہ مجھے کہے گی ،دفع ہوجاو‘ میں تمہیں کبھی معاف نہیں کر سکتی،لیکن جب اس کے پاو‘ں کی آہٹ سنی تو پوچھنے لگی کون ہے؟میں آپ کا بیٹا ہوں۔ماں کی آنکھوںسے آنسوں آگئے،بیٹے تو نے بہت انتظار کروایا،میں اس گھر میں اکیلی مصیبتوں کی ماری لیٹی ہوں۔تمہارے باپ بھی چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے ،اور دل کی آخری تمنا تھی کہ تم آجاتے۔میں تمہاری شکل نہیں دیکھ سکتی تمہاری آواز تو سن سکتی ہوں بیٹا،تمہارا چہرہ کہاں ہے مجھے ہاتھ لگا نے دو،بیٹے قریب آو ‘ میرے سینے سے لگ جاو‘،یہ ہے ماں کی محبت و ممتا کہ اتنے دکھ برداشت کرنے کے باوجود بھی وہ فقط بیٹے کے گھر آجانے سے خوش ہوجاتی ہے۔