عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// سرینگر جموں قومی شاہراہ کو چار دن کے وقفے کے بعد پھنسی ہوئی گاڑیوں کیلئے دوبارہ کھولنے سے کشمیر کے میوہ کاشتکاروںکیلئے راحت ملی ہے، جو اپنی پیداوار کی کم شیلف لائف کی وجہ سے بڑے نقصان سے دوچار تھے۔اب وہ 250 کلومیٹر طویل سڑک پر معمول کی ٹریفک کی جلد بحالی کی امید کر رہے ہیں، جو ان کی روزی روٹی کی زندگی ہے۔ ہر موسم والی سڑک کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑتی ہے۔ شاہراہ کو اس ہفتے کے شروع میں ریکارڈ بارش کے بعد بند رہنے کے بعد ہفتہ کو صرف درماندہ گاڑیوں کیلئے دوبارہ کھول دیا گیا۔حکام کے مطابق 26 اگست کی بارش کے بعد شاہراہ کے دونوں سروں پر متعدد مقامات پر 2,000 سے زیادہ گاڑیاں پھنسی ہوئی تھیں،خاص طور پر خراب ہونے والی اشیا ، بشمول پھلوں سے لدے ٹرک، تیل ٹینکر اور ہلکی موٹر گاڑیوں کو دونوں سروں سے باقاعدہ آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔قومی شاہراہ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رام بن شبم نے کہا کہ عام ٹریفک کیلئے شاہراہ کو جلد از جلد کھولنے کو یقینی بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے بتایاکہ ہم نے جمعہ کی شام 6 بجے بحالی کا کام تقریباً مکمل کر لیا تھا اور ہفتہ کی صبح اسٹریٹجک ہائی وے پر ٹریفک کی اجازت دینے کیلئے پر امید تھے لیکن رات بھر کی تازہ بارش نے ہماری کوششوں میں رکاوٹ ڈالی۔یہ خبر کشمیر کے پھل کاشتکاروں کے لیے خوشی کا باعث بنی ہے۔کشمیر سے پھلوں سے لدے ٹرک موسلا دھار بارشوں اور سیلاب کے بعد اہم شاہراہ بند ہونے کی وجہ سے کئی دنوں سے پھنسے ہوئے تھے، کاشتکاروں نے نقصان کا اندیشہ ظاہر کیا تھا۔کشمیر ویلی فروٹ گروورز وڈیلرز یونین کے چیئرمین بشیر احمد بشیر نے کہا کہ شاہراہ پر 700 سے 800 پھلوں کے ٹرک پھنسے ہوئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی قیمت 5تا9 لاکھ روپے ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پھلوں کی ابتدائی اقسام کی کٹائی کا سیزن جاری ہے اور شاہراہ بند رہنا ہمارے لیے تباہی کا باعث بن سکتا تھا اور اگر ٹرکوں کو منتقل نہ کیا جاتا تو کروڑوں کا نقصان ہوتا۔