ملک منظور
ارحام کے گھر میں ہر شے نئے زمانے کی جھلک دکھاتی تھی۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ، پرنٹر اور اسکینرجیسی سبھی چیزیں وہاں موجود تھیں اور ہر فرد ان کا خوب استعمال کرتا تھا۔ گھر کے ایک کونے میں ایک بڑی الماری کھڑی تھی جسے سب “دادا جی کی الماری” کہتے تھے۔ اس الماری میں پرانی کتابیں، سیاہی کی دواتیں اور مختلف قسم کے قلم رکھے تھے۔
وقت کے بدلنے کے ساتھ پڑھنے لکھنے کا رجحان کم ہوتا گیا۔ اب کوئی اس الماری کو کھولنے کی زحمت نہیں کرتا تھا۔ جو کچھ پڑھنا ہوتا وہ موبائل کی اسکرین پر پڑھ لیا جاتا، اور لکھنے کی ضرورت پڑتی تو لیپ ٹاپ یا ڈیسک ٹاپ کافی ہوتا۔
اسی ماحول میں ارحام کی لکھائی بہت کمزور ہو گئی۔ وہ گھریلو مشقوں سے جی چراتا اور اسکول سے اکثر اس کی خراب لکھائی کی شکایت آتی۔ مگر کوئی زیادہ توجہ نہ دیتا۔
امی کہتیں:
“اب لکھنے کی کیا ضرورت ہے؟ سب کچھ ٹائپ ہو جاتا ہے!”
ابو کہتے:
“اب تو ٹائپنگ کی بھی ضرورت نہیں رہی، خودکار ٹیکنالوجی آ گئی ہے۔”
لیکن دادی کی بات ہمیشہ مختلف ہوتی:
“بیٹا! ہاتھ کی لکھائی ہی شخصیت کو نکھارتی ہے۔”
یہی فکر ارحام کے دل میں بیٹھ گئی۔ وہ اپنی خراب لکھائی سے پریشان رہنے لگا۔ اسے دکھ ہوتا جب اس کے دوست اپنی خوشخطی پر داد پاتے۔
ایک دن جب سبھی گھر والے اپنے موبائیلوں میں مصروف تھے، ارحام نے دادا جی کی الماری کھول لی۔ اس میں ایک پرانا البم رکھا تھا، جس میں ابو کے بچپن کی تصویریں تھیں۔ ایک تصویر میں ابو جی بانس کے قلم سے تختی پر لکھ رہے تھے۔ یہ دیکھ کر ارحام حیران رہ گیا۔
مزید ٹٹولنے پر اسے ایک چمکدار قلم ملا۔ سبز رنگ کا قلم جس پر سنہری لکیریں بنی تھیں۔ اس پر جلی حروف میں لکھا تھا:
“خوشخط کے لئے!”
“واہ! کمال ہے!” ارحام نے سرگوشی کی اور قلم جیب میں ڈال لیا۔
جیسے ہی اس نے قلم کا ڈھکن کھولا، قلم اچھل کر بولا:
“ہیلووو! آخرکار کسی نے مجھے جگا ہی دیا! چلو، اب کچھ دلچسپ لکھتے ہیں!”
ارحام اچھل پڑا، یہاں تک کہ اس کا سر پنکھے سے جا ٹکرایا۔
“تُو… تُو بول بھی سکتا ہے؟”
قلم فخر سے بولا:
“صرف بول ہی نہیں سکتا، گا سکتا ہوں، ناچ سکتا ہوں اور اگر تم اچھے بنو تو تمہاری تحریر کو جادوئی بھی بنا سکتا ہوں!”
ارحام خوشی سے بولا:
“تو پھر میرا ہوم ورک کر دے!”
قلم نے حرکت شروع کی، مگر سوال حل کرنے کے بجائے لکھ ڈالا:
“ایک اور ایک گیارہ،
دو اور دو چھے نہیں ہوتے،
تین اور تین گھوڑے کا زین”
ارحام قہقہے لگانے لگا:
“یہ کیا! میری ٹیچر تو مجھے کلاس سے باہر نکال دے گی!”
قلم نے سنجیدگی سے کہا:
“میری غلطی نہیں، بلکہ غلطیوں سے انسان سیکھتا ہے۔ آؤ کہانیاں لکھتے ہیں!”
قلم کاغذ پر دوڑنے لگا اور لکھا:
“ایک دفعہ کا ذکر ہے، ایک غصے والی استانی ایک نرم ہوا دار تکیے پر بیٹھی اور پھر وہ غبارے کی طرح کھڑکی سے اُڑ گئی…”
“ارے! میری استانی کے بارے میں مت لکھو!” ارحام ہنسی روک نہ سکا۔
قلم نے آنکھ مارتے ہوئے کہا:
“لکھائی میں مزہ ہونا چاہیے! جانتے ہو میری سیاہی کس چیز سے بنی ہے؟”
ارحام نے نفی میں سر ہلایا۔
“رنگ برنگی مسکراہٹوں سے!” قلم نے فخر سے بتایا۔ “میرا اصل جادو یہی ہے۔ جج کے ہاتھ میں میں انصاف لکھتا ہوں، استاد کے ہاتھ میں علم کی روشنی اور ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا کی داستان۔ اور اگر تم چاہو تو تمہارے الفاظ بھی کمال دکھا سکتے ہیں۔”
پھر قلم نے کمال دکھانا شروع کر دیا۔
ارحام نے لکھا “کیک”، تو کاپی سے خوشبو دار چاکلیٹ کیک نکل آیا۔
اس نے لکھا “بارش”، تو ننھے قطرے میز پر ٹپکنے لگے اور باہر کھڑی بکری بھیگ کر “میں میں” کرنے لگی۔
اس نے لکھا “ہیرو”، تو پینسل باکس نے سر پر لال کپڑا باندھ لیا اور پکارا: “میں سپر ہیرو ہوں!”
ارحام کی آنکھیں حیرت سے کھل گئیں:
“تم تو لفظوں کو حقیقت میں بدل سکتے ہو؟”
“بالکل!” قلم نے ناچتے ہوئے کہا۔ “لفظ ہی دنیا تخلیق کرتے ہیں۔”
اس دن کے بعد ارحام نے لکھنے سے کبھی گریز نہ کیا۔ اس کی کاپیاں جادوئی نظموں، ناچتے موروں، اُڑتے ربڑ اور خوشبودار کیکوں سے بھر گئیں۔
ٹیچر نے ڈانٹنے کے بجائے اتنا ہنسا کہ چاک ہاتھ سے گر کر دو ٹکڑے ہو گیا۔
اب جو بھی ارحام سے پوچھتا کہ وہ لکھنے سے اتنی محبت کیوں کرتا ہے، تو وہ مسکرا کر جیب میں چھپے راز کو چھوتا اور سرگوشی کرتا:
“شکریہ، دادا جی کے قلم!”
اور قلم ہنستے ہوئے جواب دیتا:
“شکریئے کی کیا بات ہے… اب چلو، سائیکل پر سوار بکری کی کہانی لکھتے ہیں!”
���
قصبہ کھل کولگام،کشمیر
موبائل نمبر;9906598163