محمد تسکین
بانہال//جموں سرینگر قومی شاہراہ پر واقع قصبہ بانہال میں بیوپار منڈل بانہال اور ٹرانسپورٹ ایسوسیشن بانہال کی طرف سے بُدھ کے میونسپل کمیٹی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین میونسپل کمیٹی بانہال کی طرف سے قصبہ بانہال میں داخل ہونے والی مسافر گاڑیوں پر انٹری فیس کو دس روپئے سے بڑھا تیس روپئے کرنے کے خلاف اپنا احتجاج اور ناراضگی درج کر رہے تھے اور اسے زیادتی سے تعبیر کرتے ہیں ۔اس مظاہرے کی قیادت صدر بیوپار منڈل بانہال شاداب احمد وانی اور صدر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن مولوی عبدالرشید کر رہے تھے۔ صدر بیوپار منڈل بانہال شاداب احمد وانی نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے میونسپل کمیٹی پر الزام لگایا کہ وہ جمع کی جارہی ٹاون ٹیکس کی رقم کو قصبہ کی تعمیر وترقی پر خرچنے میں ناکام رہی ہے اور اب تک قصبہ بانہال ایک واش روم بھی تعمیر نہیں کیا گیا ہے اور ان لوکل فنڈز کی تحقیقات کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ میونسپل کمیٹی نے یکم اپریل سے ٹینڈرز کرکے ٹاؤن انٹری ٹیکس کو ایک دم دس روپئے سے بڑھا کر تیس روپئے کر دیا ہے اور یہ یہاں ٹرانسپورٹ سے جڑے پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں سے ذیادتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے ڈورو شاہ ، اننت ناگ ، بجبہاڑہ سمیت وادی کشمیر کے دیگر قصبوں میں یہ انٹری فیس دس روپئے گاڑی مقرر ہے اور بانہال میں سے تیس روپئے فی مسافر گاڑی بڑھایا گیا ہے ۔اس موقع پر مقامی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر مولوی عبدالرشید نے کہا کہ جو بھی افراد مسافر ٹرانسپورٹ سے جڑے ہوئے ہیں وہ سب پڑھے لکھے لوگ ہیں اور بیروزگاری سے بچنے اور اپنے گھر والوں کی پرورش کیلئے بیشتر نوجوانوں نے بنکوں سے قرضے لیکر گاڑیاں خریدی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ہی ٹرانسپورٹرز سنگین نوعیت کی مشکلات سے دو چار ہیں اور جگہ جگہ ٹول پلازہ ، انشورنس اور روڈ ٹیکس کی بڑھتی قیمتیں اور پولیس اور ٹریفک پولیس کی طرف سے چیکنکز اور چالانوں نے گاڑی والوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یکم اپریل کو میونسپل کمیٹی بانہال کی طرف سے ٹاؤن انٹری ٹیکس کو دس روپئے فی چھوٹی مسافر گاڑی سے بڑھا کر اسے تیس روپئے فی گاڑی کر دیا ہے اور اس کیلئے چنگیاں قائم کی گئی ہیں اور ڈرائیوروں کو تیس روپئے کی رقم دینے کیلئے مجبور کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں والوں میں غم و غصّہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ ٹاؤن انٹری کے نام پر صرف دس روپئے کی فیس ہی ادا کرینگے اور اس پر تمام گاڑی والے متفق ہیں اور وہ وہ اس سے اوپر کوئی بھی انٹری فیس نہیں دینگے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سرکار نے بھی اپنے بجٹ میں ٹرانسپورٹروں پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے جسکی وجہ سے یہ شعبہ مسائل کا شکار ہے۔